تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 3
اسرائیل کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ کیا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کے احکام کا فرمانبردار۔بعض لوگوں نے اس کے معنے سَرِیُّ اللہِ کے کئے ہیں (تاج) سَرِیٌّ کے معنے عربی زبان میں صاحب شرف و مروت اور فَیّاض کے یا معزز شریف سردار کے ہیں۔لیکن HEBREW AND ENGLISH LAXICON OF THE OLD TESTAMENT میں اس بات کی تصریح کر دی گئی ہے کہ یَسْرٌ کے حقیقی معنے سَرِیٌّ کے نہیں ہاں اس سے ملتا جلتا مفہوم ہے (اصل بات یہ ہے کہ یَسْرٌ چونکہ جنگجو بہادر کو کہتے ہیں اور ایسا شخص ہی سردارِ لشکر ہو سکتا ہے جو بہادر اور جنگجو ہو اور عرب لوگ بھی ایسے شخص کو سردار مانتے تھے جو صاحبِ شرف اور مروت اور فیاض ہو اور ایسا شخص ہی جنگوں میں پیشرو ہو سکتا تھا تو گویا ان معنوں کے لحاظ سے یَسْرٌ کے معنے سَرِیٌّ کے مشابہ ہو گئے)۔اُذْکُرُوْا۔امر حاضر جمع کا صیغہ ہے اور ذَکَرَ الشَّیْ ءَ (یَذْکُرُ ذِکْرًا وَتَذْ کَارًا) کے معنے ہیں حَفِظَہٗ فِیْ ذِھْنِہٖکسی چیز کو اپنے ذہن میں یاد کر لیا اور جب ذَکَرَ الشَّیْءَ بِلِسَانِہٖ کہیں تو معنے ہوں گے قَالَ فِیْہِ شَیْئًا کہ اس نے کسی بات کے متعلق اپنی زبان سے کچھ کہا۔اور ذَکَرَ لِفُلَانٍ حَدِیْثًا کے معنے ہیں قَالَہٗ لَہٗ کوئی بات بیان کی جب ذَکَرَ مَا کَانَ قَدْنَسِیَ کا فقرہ بولیں تو اس کے معنے ہوںگے فَطَنَ بِہٖ کسی بھولی ہوئی بات کی یاد تازہ ہو گئی۔(اقرب) امام راغب لکھتے ہیں اَلذِّکْرُ تَارَۃً یُقَالُ وَیُرَادُ بِہٖ ھَیْئَۃٌ لِلنَّفْسِ بِھَا یُمْکِنُ لِلْاِنْسَانِ اَنْ یَّحْفَظَ مَا یَقْتَنِیْہِ مِنَ الْمَعْرِفَۃِ کہ ذکر کا لفظ بول کر کبھی نفس کی وہ ہیئت مراد لی جاتی ہے جس کے ذریعہ سے انسان کے لئے ممکن ہوتا ہے کہ وہ معلوم شدہ باتوں کو یاد رکھ سکے وَھُوَ کَا لْحِفْظِ اِلَّا اَنَّ الْحِفْظَ یُقَالُ اِعْتِبَارًا بِــاِحْرَازِہٖ وَالذِّکْرُ یُقَالُ اِعْتَبَارًا بِـاِسْتِحْضَارِہٖ۔اور ان مذکورہ بالا معنوں میں ذکر کا لفظ حفظ کے لفظ کے ہم معنی ہے ہاں حفظ اور ذکر ہر دو کے مفہوم میں تھوڑا سا امتیاز ہے حفظ کسی شخص کے یاد کرنے پر اس وقت بولیں گے جب وہ ذہن میں بعض باتوں کو جمع کرتا چلا جائے اور ذکر اس کے اس طور پر یاد رکھنے کو کہیں گے کہ اس کو وہ باتیں ُمستحضر رہیں اور جب چاہے انہیں استعمال کر لے وَتَارَۃً یُقَالُ لِحَضُوْرِ الشَّیْ ءِ الْقَلْبَ اَوِالْقَوْلَ اور کبھی دل میں کسی امر کا خیال لانے یا زبان پر کسی بات کے لانے کا نام ذکر رکھا جاتا ہے وَلِذٰ لِکَ قِیْلَ اَلذِّکْرُ ذِکْرَانِ ذِکْرٌ بِالْقَلْبِ وَ ذِکْرٌ بِاللِّسَانِ اسی لئے کہتے ہیں کہ ذکر د۲و طرح ہوتا ہے (۱) قلبی ذکر (۲) زبانی ذکر۔وَکُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا ضَرْبَانِ ذِکْرٌ عَنْ نِسْیَانٍ وَ ذِکْرٌ لَاعَنْ نِسْیَانٍ بَلْ عَنْ اِدَامَۃِ الْحِفْظِ کہ خواہ قلبی ذکر ہو یا قولی ہر د۲و کی د۲و د۲و قسمیں ہیں۔(۱) بھول جانے کے بعد کسی بات کا یاد کرنا (۲) یا بغیر بھولنے کے یاد رکھنا (مفردات) پس اُذْکُرُوْا