تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 72

جہاں تک اس امر کا تعلق ہے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام صفائی کے ساتھ کلام نہیں کر سکتے تھے وہ تو ایک حد تک درست ہے بائبل میں بھی یہ ذکر ہے اور قرآن کریم نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے خروج باب۳ میں لکھا ہے۔’’ پس اب تو جامیںتجھے فرعون پاس بھیجتا ہوں۔میرے لوگوں کو جو بنی اسرائیل ہیں مصر سے نکال۔موسیٰ نے خدا کو کہا ،مَیں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکالوں۔‘‘ (خروج باب۳آیت۱۰،۱۱) اس کے بعد ان مختلف ہدایتوں کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس موقع پر حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو ملیں پھر اس سلسلۂ کلام کے آخر پر یُوں کہا گیا ہے کہ:۔’’ تب موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ اے میرے خداوند مَیں فصاحت نہیں رکھتا نہ تو آگے سے اور نہ جب سے کہ تو نے اپنے بندے سے کلام کیا اور میری زبان اور باتوں میں لکنت ہے تب خداوند نے اُسے کہا۔کہ آدمی کو زبان کس نے دی اور کون گونگا یا بہرایا بینایا اندھا کرتا ہے کیا مَیں نہیں کرتا جو خداوند ہوں۔پس اب تو جا اور مَیں تیری بات کے ساتھ ہوں اور تجھ کو سکھاؤں گاجو کچھ توکہے گا۔‘‘ (خروج باب۴ آیت۱۰ تا ۱۲) قرآن کریم میں آتا ہے وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا يَتَّقُوْنَ۔قَالَ رَبِّ اِنِّيْۤ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ۔وَ يَضِيْقُ صَدْرِيْ وَ لَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ۔(الشعراء :۱۱تا۱۴) یعنی یاد کرو جبکہ تیرے رب نے موسیٰ سے کہا کہ ظالموں کی قوم یعنی فرعون کی قوم کے پاس جا اور انہیں کہہ کہ کیا وہ تقویٰ اختیارنہیں کریںگے۔موسیٰ علیہ ا لسلام نے کہا۔اے میرے رب مَیں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ میری تکذیب کریںگے اور اُن کی تکذیب کے خیال سے میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔پس نبوت کو ہارون کی طرف بھیجئے۔بائبل اور قرآن کے ان حوالوں سے یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی زبان میں کوئی نقص تھا اور انہوں نے خدا تعالیٰ سے یہ عرض کیا کہ میری زبان نہیں چلتی اس لئے میری جگہ کِسی اَور کو بھیجئے۔لیکن اس کے ساتھ ہی بائبل اور قرآن دونوں کے حوالوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے اپنی زبان نہ چلنے کا عذر اس وقت کیا ہے جب اُنہیں فرعون کے پاس جا کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اب دو ہی صورتیں ممکن ہیں یا تو ہم حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے اس عذرکے یہ معنے کریں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں لکنت تھی یا اعصابی طور پر کچھ ایسی کمزوری تھی کہ جب اُنہیں جوش آجاتا تھا تو وہ صفائی سے اپنا مافی الضمیر ادا نہیںکر سکتے تھے اور