تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 71

قبر پر سُؤروں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔( یہ تمام حوالے انسائیکلوپیڈیا ببلیکا زیر لفظ Swine a scared animal پر دیکھیں) اسی طرح پروفیسر اڈولف لاڈز (Adolphelods)جو پیرس کی ساربان (Sorbonne)یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اپنی کتاب اسرائیل میں لکھتے ہیں کہ مصر میں عام طور پر تو سؤر کے گوشت سے پرہیز کیا جاتا تھا لیکن خاص خاص چاندوں کی چودھویں تاریخوں پر ’’ سی لین ‘‘ اور ’’ ڈایونیسس‘‘ کے مندروں پر اُس کی قربانی کی جاتی تھی اور اُن کے پجاری اُسے کھاتے تھے ( کتاب اسرائیل صفحہ ۲۴۸)۔پس یہ کہنا کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے چونکہ سُؤر کے کھانے سے روکا اس لئے وہ مصری تھے درست نہ ہوا کیونکہ خود مصریوں میں سؤر کی پُوری ممانعت نہیں اور جن قبائل میں ممانعت ہے ان میں بھی اس کو گندہ قرار دے کر ممانعت نہیں بلکہ ایک مقدّس جانور قرار دے کر ممانعت ہے تبھی تو خاص خاص تہواروں پر مندروں میں اس کی قربانی کی جاتی تھی اور پجاری لوگ اس کو کھاتے تھے۔سؤر کو پاکیزہ جانور قرار دینا صرف میرا قیاس نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے چنانچہ انسائیکلو پیڈیا ببلیکا والا لکھتا ہے کہ ایشیائے کوچک۔یونان اور اٹلی میں سؤر کو خاص عزت حاصل تھی۔اسی طرح پروفیسر لاڈز (LORDS) لکھتے ہیں کہ سؤر بنی اسرائیل کے بہت سے ہمسائیوں کے نزدیک ایک مقدّس جانور تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس پر خدا تعالیٰ کی تقدیس نازل ہوئی ہے بابل کے لوگوں میں نَنِیب(NINIB)کی وجہ سے اور شامی لوگوں میں تمُوز (TAMMUZ)کی وجہ سے یہ مقدّس سمجھا جاتا تھا چنانچہ شامیوں میں تمُوز کے نام جو مہینہ مقرر کیا گیا تھا اس کا نام خَنْزیُرو یعنی خنزیر (سُؤر) تھا (دیکھو کتاب اسرائیل صفحہ ۲۴۸ بحوالہ ڈی کا ٹلن شرفٹن اُنڈڈاس آ لٹے ٹیسٹامینت مصنّفہ ہائین رچ زمَّرن اور ہیوگوو نکلر) اِن حولوں سے مزید تقویت اِس خیال کو پہنچتی ہے کہ مصری لوگوں میں خنزیر کے ذبیحہ سے اجتناب اُس کی تقدیس کی وجہ سے تھا نہ کہ اُسے بُرا سمجھنے کی وجہ سے لیکن جیسا کہ بائبل سے ظاہر ہے یہود میں اُسے بُرا اور گندا قرار دیا گیا ہے پس سؤر کی حرمت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری تھے کسی صورت میں بھی درست نہیں ہو سکتا۔اس دلیل کا ردّ کہ چونکہ حضرت موسیٰ اچھی طرح کلام نہیں کر سکتے تھے اس لئے آپ مصری تھے چھٹی دلیل حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے مصری النسل ہونے کی تائید میں یہ دی جاتی ہے کہ بائبل سے معلوم ہوتا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام اچھی طرح کلام نہیں کر سکتے تھے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غیر نسل سے تھے اور یہودیوں کی زبان میں اُن سے کلام نہیں کر سکتے تھے۔