تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 73

الفاظ یا حروف کو حذف کر دیتے تھے اور یا ہم یہ معنے کریں کہ جس قوم کو مخاطب کرنے کا حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو حکم دیا گیا تھا اس کی زبان میں وہ اچھی طرح کلام نہیں کر سکتے تھے۔اگر اوّل الذکر معنے لئے جائیں تو پھر یہ استدلال کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری تھے بالبداہت باطل ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ زبان میں لکنت کا ہونا یا کسی شخص میں ایسی اعصابی کمزوری کا پایا جانا کہ جوش والی تقریر میں عبارت اُس کے قابو میں نہ رہے۔یہ مصریوں کا خاصہ نہیں۔بنی اسرائیل میں بھی یہ مرض ایسی ہی پائی جا سکتی ہے جیسا کہ مصریوں یا کسی اور قوم میں۔اور اگر دوسرے معنے کئے جائیں یعنی حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے عذر سے مراد زبان کا نہ جاننا ہے تو پھر تو یہ اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری نہ تھے کیونکہ بائبل بھی یہی بیان کرتی ہے اور قرآن کریم بھی یہی بیان کرتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ عذر اُس وقت پیش کیا ہے جب اُنہیںفرعون کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ مصری موسیٰ مصری فرعون کو تبلیغ کرنے کا حکم سُن کر یہ عذر کرے گا کہ مجھے مصری زبان نہیں آتی۔اگر وہ مصری تھے تو اُن کو تو وہ زبان آتی تھی جو فرعون بولتا تھا۔پس اگر حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے عذر کی یہ تشریح کی جائے کہ وہ اُس زبان کے نہ جاننے کا عذر کرتے ہیں جس سے اُن کا مخاطب واقف ہے تو پھر اس سے یقینی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ اسرائیلی تھے۔چونکہ فرعون کو تبلیغ کرنے کا اُنہیں حکم دیا گیااور وہ فرعون کی زبان کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے انہوں نے خدا تعالیٰ سے یہ عذر کیا کہ جس شخص کو تبلیغ کرنے کا آپ نے مجھے حکم دیا ہے میں اُس کی زبان اچھی طرح نہیں جانتا یعنی مَیں عبرانی زبان کا ماہر ہوں اور وہ مصری زبان بولنے والا ہے۔پس یہ استدلال نہایت ہی بودہ، نہایت ہی کمزور اور قلّتِ تدبّر کا نتیجہ ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم اور بائبل کا دعویٰ کہ موسیٰ علیہ ا لسلام بنی اسرائیل میں سے تھے صحیح اور محقّقین جدید کا یہ دعویٰ کہ وہ مصری تھے نہایت غلط اور خلافِ عقل ہے۔حق یہ ہے کہ کوئی ثبوت اِس بات کی تائید میں نہیں ملتا کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام اسرائیلی نہ تھے لیکن بیسیوں ثبوت اس بات کی تائید میں ہیں اور پیش کئے جا سکتے ہیں اور بعض اوپر پیش کئے گئے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام اسرائیلی تھے۔اَلْکِتاب۔وَ اِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ … الخ کی تشریح فرماتا ہے ہم نے اِس جگہ پر موسیٰ کو کچھ احکام دیئے۔کتاب کے معنی جیسا کہ حلِّ لغات سورہ بقرہ آیت نمبر۳میں بتایا گیا ہے مفروضات کے ہوتے ہیں یعنی فرض کی گئی باتیں۔پس اَلْکِتَاب سے مراد یہ ہے کہ موسیٰ علیہ ا لسلام کو وہاں بعض نہایت ہی تاکیدی احکام عطا فرمائے۔قرآن مجید کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دیئے جانے پر ریورنڈ ویری کا