تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۵۳ پھر ہم نے اس کے بعد تمہیں معاف کیا تاکہ تم شکر گذار بنو۔حَلّ لُغَات۔ثُمَّ۔حرفِ عطف ہے جو ترتیب اور تراخی کے لئے آتا ہے یعنی یہ ظاہر کرتا ہے کہ معطوف اپنے معطوف علیہ کے بعد ترتیبًا اور کچھ دیر کے بعد واقع ہوا ہے اُردو زبان میں اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ’’پھر‘‘ ’’تب‘‘ ’’بعدازاں‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اور بعض اوقات ثُمَّکے آخر میں تا بھی لے آتے ہیں جیسے کہ اس شعر میں اسے لایا گیا ہے۔؂ وَلَقَدْ اَمُرُّ عَلَی اللَّئِیْمِ یَسُبُّنِیْ فَمَضَیْتُ ثُمَّتَ قُلْتُ لَا یَعْنِیْنِیْ (اقرب) یعنی میں جب کبھی گالیاں دینے والے ایک کمینے شخص کے پاس سے گزرتا ہوں۔تو خاموشی سے گزر جاتا ہوں اور اپنے نفس میں کہتا ہوں کہ وہ مجھے مخاطب نہیں کرتا۔عَفَوْنَا: عَفٰـیسے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے۔اور عَفَـی عَنْہُ وَلَہٗ ذَنْبَہٗ وَ عَنْ ذَنْبِہٖ (یَعْفُوْ) کے معنے ہیں صَفَحَ عَنْہُ وَ تَرَکَ عُقُوْبَتَہٗ وَھُوَ یَسْتَحِقُّہَا وَ اَعْرَضَ عَنْ مُّؤَاخَذَتِہٖکہ اس کے قصور سے درگزر کیا اور اس کی سزا کو معاف کیا اور اس کی غلطی پر مؤاخذہ نہ کیا در آنحالیکہ وہ سزا کا مستحق تھا۔جب عَفَی اللہُ عَنْ فُلَانٍ کا فقرہ کہیں تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ مَحٰی ذُنُوْبَہٗ اﷲ تعالیٰ نے اس کے گناہ کو مٹا دیا۔اور عَفَـٰی عَنِ الشَّیْ ءِ کے معنے ہیں اَمْسَکَ عَنْہُ وَ تَنَزَّہَ عَنْ طَلَبِہٖ کسی چیز سے رُکا رہا اور اس کی طلب سے اپنے آپ کو علیٰحدہ رکھا۔( اقرب) پس عَفَوْنَا کے معنے ہوں گے کہ باوجود اس کے کہ تمہارا گناہ اس قابل تھا کہ ضرور سزا دی جاتی۔لیکن پھر بھی ہم نے مواخذہ نہ کیا اور معاف کر دیا۔(۲) ہم تم کو سزا دینے سے رُکے رہے۔لَعَلَّ۔لَعَلَّ حروف مشبّہ بالفعل میں سے ہے اس کے ساتھ یائِ متکلّم بھی لگائی جاتی ہے جیسے لَعَلِّیْ اور کبھی لَعَلَّاور یاء ِمتکلّم کے درمیان نون زائد کیا جاتا ہے جسے نونِ وقا یہ کہتے ہیں جیسے لَعَلَّنِیْ۔نون کے بغیر استعمال زیادہ ہے یہ اسم کو نَصب اور خبر کو رَفع دیتا ہے جیسے لَعَلَّ زَیْدًا قَائِمٌ۔لیکن فَرَّاء اور بعض دیگر نحویوں کے نزدیک اسم اور خبر دونوں کو نصب دیتا ہے جیسے لَعَلَّ زَیْدًا قَائِمًا۔لَعَلَّکے کئی معنے ہیں (۱) پسندیدہ شَے کی توقع اور ناپسندیدہ شَے سے خوف ان معنوں میں یہ ایسے امر کے لئے