تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 53

استعمال ہوتا ہے جس کا حصول ممکن ہو گو مشکل ہو۔قرآن کریم میں جو فرعون کاقول نقل ہے۔لَعَلِّيْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ(المؤمن: ۳۷‘ ۳۸) اس کے متعلق مفسّرین کہتے ہیں یہ اس کی جہالت پر دلالت کرتا ہے وہ اپنی نادانی سے یہی سمجھتا ہو گا کہ میں اونچے مکان پر سے خدا تک پہنچنے کا راستہ پا لوں گا مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ یا تو وہ یہ کہتا ہے کہ علم ہیئت کے ذریعہ سے موسیٰ کے مستقبل کو معلوم کر کے اس کا مقابلہ کروں گا اور یہ ُعقدہ گو باطل ہے مگر کثرت سے رائج ہے۔یا پھر اس کا قول بطور تمسخر ہے۔چونکہ موسیٰ ؑ بار بار خدا کو آسمان پر بتاتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ خدا اور فرشتے مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔اس پر وہ تمسخر سے کہتا ہے کہ لائو ایک مکان بنائو شائد اس طرح ہم موسیٰ کے خدا کو پہنچ جائیں اور ہم بھی اس سے باتیں کر کے دیکھیں۔مطلب یہ کہ ایک طرف خدا کو آسمان پر ماننا اور دوسری طرف اس سے باتیں کرنے کا دعویٰ یہ خلافِ عقل ہے الٰہی علوم سے ناواقف انسانوں کے لئے اس مسئلہ کو نہ سمجھ سکنا قابلِ تعجب نہیں (۲) اس کے معنے محض تعلیل کے بھی ہوتے ہیں جیسےفَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى(طٰہٰ : ۴۵) یہی معنے ترجمہ میں استعمال کئے گئے ہیں (۳) کوفیوں کے نزدیک کبھی اس کے معنوںمیں استفہام کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے کلیات ابی البقاء میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ یعنیلَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَ(الشعراء: ۱۳۰)کے سوا جہاں کہیں بھی لَعَلَّ استعمال ہوا ہے توقع کے معنوں میں نہیں بلکہ تعلیل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی ’’تاکہ‘‘ یا ’’تا‘‘ کے معنوں میں (۴) کلام ِ ُملوک کے طو ر پر بھی استعمال ہوتا ہے یعنی بادشاہ کے لئے کوئی اور یا بادشاہ اپنی نسبت خود امید اور توقع کے الفاظ استعمال کرتا ہے لیکن مراد اس سے یقینی بات یا حکم کے ہوتے ہیں۔تَشْکُرُوْنَ۔شَکَرَ سے مضارع جمع مخاطب کا صیغہ ہے اور شَکَرَ کبھی بغیر صلہ اور کبھی ل کے صلہ کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔یعنی شَکَرَہٗ اور شَکَرَلَہٗ ہر دو طرح استعمال کرتے ہیں۔لیکن اگر شَکَرَ کا صلہ لام آئے تو یہ زیادہ فصیح سمجھا جاتا ہے۔شَکَرَہٗ وَ شَکَرَلَہٗ کے معنے ہیں اَثْنٰی عَلَیْہِ بِمَا اَوْلَاہُ مِنَ الْمَعْرُوْفِ کسی کے احسان کے باعث اس کی تعریف کی۔گویا محسن کی تعریف کے ساتھ اقرارِ احسان شکر کہلاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔خروج باب ۳۲ آیت۱۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنی اسرائیل نے بچھڑا بنایا تو اﷲ تعالیٰ کا غضب اُن پر بھڑک اٹھا اور اس نے موسیٰ سے کہا ’’ کہ مَیں اِس قوم کو دیکھتا ہوں کہ یہ ایک گردن کش قوم ہے اب تو مجھ کو چھوڑ کہ میرا غضب ان پر بھڑکے اور مَیں انہیں بھسم کروں۔‘‘