تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 51

بائبل کا یہ بیان ایسا خلاف عقل ہے کہ کوئی عقلمند اسے ایک منٹ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کا ایک نبی جو خدا تعالیٰ کا کلام سننے کا عادی تھا وہ ایک بے جان۔بے اثر۔بیفائدہ مُورت بنا کر اسے خدا قرار دیتا ہے اور خود بھی اس کی عبادت کرتا ہے اور دوسروں سے بھی اس کی عبادت کرواتا ہے۔سوائے پادریوں اور یہودی راہبوں کے جو بائبل کی رطب و یا بس تحریرات کو ماننے کیلئے عقل کے کانوںمیں سیسہ ڈالے بیٹھے ہیں کون اس غیر معقول بات کو تسلیم کر سکتا ہے؟ دس دن کے اندر بچھڑا کس طرح بن گیا؟ بعض لوگ اِس واقعہ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دس دن کے وقفہ کے اندر بچھڑا کیونکر بن گیا؟ ان کے اس اعتراض سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا انہوں نے وہ بچھڑا دیکھا ہے اور اس کی صنعت انہیں ایسی اعلیٰ معلوم ہوئی ہے کہ اُس کے بنانے کے لئے بڑے بڑے کارخانوں اور کامل الصناعت انجینئروں کی ضرورت تھی۔سونے کو پگھلا کر مٹی کے ایک سانچے میں ڈال کر اس سے ایک بھدّا سا بُت بنا دینا کونسا بڑا کام ہے جس شخص نے وہ بُت بنایا تھا وہ دل سے مشرک تھا اور اِس کا دل چاہتا تھا کہ کسی طرح بنی اسرائیل میں پھرشرک جاری ہو جائے۔پس اس نے گھنٹوںمحنت کر کے ایک بھدّا سا بُت بنا دیا تو اس میں کیا تعجب ہے؟ ایسے بُت کا بنانا سادہ کڑوں کے بنانے سے زیادہ مشکل نہیں جو چند گھنٹوں میں سُنار تیار کر لیتے ہیں۔باقی رہا یہ سوال کہ ہارون ؑ کو یہ فن کہاں سے آیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا جواب یہودی یا عیسائی دیں۔ہمارا تو عقیدہ یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام اس مشرکانہ فعل سے بَری تھے۔اس کا بنانے والا ایک اور شخص سامری نام تھا۔ممکن ہے وہ خود سُنار ہو یا ممکن ہے اُس نے اپنے ہم خیال سُناروں کی مدد سے بچھڑا بنایا ہو۔تیس راتوں کی بجائے چالیس راتوں کا وعدہ احسان تھا نہ کہ وعدہ خلافی بعض لوگ اعتراض کرتے کہ پہلے تیس راتوں کا وعدہ کرنا پھر چالیس راتیں کر دینا کیا وعدہ خلافی نہیں؟ یہ ایسا ہی اعتراض ہے۔جیسے کسی کو تیس روپے دینے کا وعدہ کر کے چالیس دئے جائیں تو اسے وعدہ خلافی کہا جائے۔خدا کا کلام ایک نعمت ہے۔تیس رات کلام کی جگہ چالیس رات کلام کر کے نعمت کو مکمل کیا گیا ہے اور نعمت کی تکمیل وعدہ خلافی نہیں کہلاتی بلکہ انعام اور احسان کہلاتی ہے۔