تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 548
کہ جس میں تم نہ تو اس پہاڑ پر اور نہ یروشلم میں باپ کی پرستش کرو گے۔‘‘ اس پیشگوئی میں حضرت مسیح صاف الفاظ میں اعلان فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ میں نہ یہ پہاڑ قبلہ رہے گا اور نہ یروشلم بلکہ ان دونوں کو منسوخ کر کے اللہ تعالیٰ ایک تیسرا قبلہ مقرر کرے گا۔ان آیات میں جو پہاڑ پر اور یروشلم میں پرستش کرنے کا ذکر ہے اس سے یہ مراد نہیں کہ یہود سب یروشلم میں جا کر عبادت کیا کرتے تھے اور سامری اس پہاڑ پر عبادت کرتے تھے بلکہ اس سے یروشلم اور اس پہاڑ کو قبلہ بنانا ہی مراد ہے یعنی وہ ان کی طرف منہ کر کے عبادت کرتے تھے پس پہاڑ پر اور یروشلم میں عبادت نہ کرنے کا یہی مطلب ہے کہ آئندہ ان کی طرف منہ کر کے عبادت نہیں کی جائے گی۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح انجیل نے پہاڑ کی طرف منہ کر کے عبادت کرنے کو پہاڑ پر عبادت کرنے کے الفاظ سے ادا کیا ہے اسی طرح قرآن کریم نے بھی قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِ کا محاورہ استعمال کیا ہے جس سے مراد آسمان کی طرف آپ کا منہ کرنا نہیں بلکہ آسمان کی طرف آپ کی توجہ کا مبذول ہونا مراد ہے۔ان دو پیشگوئیوں کے علاوہ اور بھی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو کعبہ کی ترقی پر دلالت کرتی ہیں مگر مثال کے طو ر پر یہ صرف دو ہی کافی ہیں پس ان پیشگوئیوں کی بنا پر گو یہود پہلے ان کا مطلب نہ سمجھتے ہوں مگر وقوع کے بعد ان کے لئے اس امر کا سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ تھا کہ یہ حکم ایک قدیم پیشگوئی کے مطابق ہے اور اس پر اعتراض کرنا اپنی کتب پر اعتراض کرنا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ میں اہل کتاب سے مسلمان بھی مراد ہو سکتے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم جیسی کامل کتاب عنایت فرمائی ہے وہ اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا جو حکم دیا گیا ہے یہ خدا کی طرف سے ہے نہ اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ کعبہ قبلہ ہو گا۔بلکہ اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے نبی ہیں۔اور ان پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے۔ایسی صورت میں یہ ناممکن تھا کہ وہ آپ کے احکام کو منجانب اللہ نہ سمجھیں اور آپ ؐ کی ہر رنگ میں کامل اطاعت نہ کریں۔وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ۔فرماتا ہے۔ہم ان کی حرکات کو خوب جانتے ہیں۔ان کے بڑے بڑے علماء محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے قائل ہونے کے باوجود محض ضِد اور تکبر کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں ورنہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی تبدیلی اور بنو اسمٰعیل میں ایک نبی کے آنے کے متعلق ان کی کتابوں میں پیشگوئیاں