تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 549
موجود ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ اپنے تکبر کی وجہ سے آپ پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔تحویل قبلہ ہجرت کے بعد کوئی سولہ یا سترہ مہینے گذرنے پر ہوئی ہے۔چنانچہ بخاری میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لانے کے بعد سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کو پسند یہی تھا کہ قبلہ بیت اللہ ہو۔آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بارہ میں حکم نازل ہوا اور آپؐ نے پہلی نماز جو کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھی وہ عصر کی نماز تھی۔ایک شخص جو نماز میں آپ کے ساتھ شامل ہوا تھا۔وہ نماز سے فارغ ہو کر ایک مسجد کے پاس سے گذرا۔تو اس نے دیکھاکہ لوگ رکوع کی حالت میں ہیں۔اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے ہیں اس پر اس نے بلند آواز سے کہا۔کہ اَشْھَدُ بِاللّٰہِ لَقَدْ صَلَّیْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَکَّۃَ۔یعنی میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔اس پر لوگوں نے نماز کی حالت میں ہی بیت المقدس سے منہ ہٹا کر خانہ کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔(بخاری کتاب التفسیر باب قولہ سیقول السفہاء و تفسیر ابن کثیرزیر آیت سیقول السفھآء) نسائی نے ابو سعیدؓ سے روایت کی ہے کہ ظہر کی نماز تھی جس میں تحویل قبلہ ہوئی۔ابو سعید ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ساتھی پہلے لوگ ہیں جنہوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔اور کئی مفسرین نے اور بعض دوسرے راویوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ظہر کی نماز کی دو رکعتیں ہو چکی تھیں جبکہ یہ حکم نازل ہوا۔یہ حکم مسجد بنی سلمہ میں نازل ہوا تھا۔اسی لئے صحابہ ؓ اس مسجد کو مسجد القبلتین کہتے تھے۔( تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا) اوپر کی روایات سے ظاہر ہے کہ ایک میں تو یہ ذکر آتا ہے کہ عصر کی نماز میں تحویل قبلہ ہوئی اور دوسری میں یہ ذکر آتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نمازمیں نازل ہوا۔ظہر والی روایات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ تحویل قبلہ تو ظہر کے وقت ہوئی ہو اور ایک شخص عصر کی نماز میں آکر شامل ہوا ہو اور اس نے اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھ کر یہ سمجھ لیا ہو کہ تحویل اب ہوئی ہے کیونکہ عصر کے وقت آنے والے کا خیال ظہر کی نمازکی طرف نہیں جا سکتا پس ظہر والی روایت کو ترجیح دی جائےگی۔نویلہ بنت مسلم کی روایت ہے کہ وہ ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ یہ خبر آئی کہ بیت اللہ قبلہ ہو گیا ہے۔یہ بھی پہلی روایت کی تائید کرتی ہے چنانچہ لکھا ہے کہ مرد عورتوں کی جگہ اور عورتیں مردوں کی جگہ ہو گئیں(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا)