تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 547
نے جس رسول کو مبعوث فرمانا تھا اُسے پیشگوئی کے مطابق مکہ میں مبعوث فرما دیا جس کے پاس کے میدان کو عرب لوگ ہمیشہ سے دشتِ فاران کہتے چلے آئے تھے۔(۳) پھر جس پہاڑ کا نام یہود نے فاران رکھا ہے وہ بھی عرب میں ہی ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ بھی فاران کو عرب سے باہر نہیں لیجا سکے۔(۴) پھر بائیبل سے بھی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ فاران سے مکہ کے پہاڑ ہی مراد ہیں۔چنانچہ پیدائش باب۲۱ آیت ۲۱ میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے:۔’’ وہ فاران کے بیابان میں رہا اور اس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اس سے بیاہنے کو لی۔‘‘ اور صرف مکہ ہی ایک ایسا شہر ہے جس کے رہنے والے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اپنے شہر کا بانی سمجھتے ہیں اور یہ صرف ایک روایت ہی نہیں بلکہ قوموں کی قومیں اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرتی ہیں اور ان کے سب آثار وہاں پائے جاتے ہیں۔بلکہ فتوحاتِ اسلام تک کعبہ میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بُت بھی پائے جاتے تھے پس مکہ والوں کے دعوے کو بہر حال تسلیم کرنا پڑے گا۔ورنہ یہودیوں اور عیسائیوں کو وہ شہر پیش کرنا چاہیے۔جس کی بنیاد حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ نے رکھی ہو اور جس کے رہنے والے اپنے آپ کو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہوں۔اور اگر کوئی ایسا شہر پیش نہ کر سکیں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہی وہ فاران ہے جس کے متعلق پیشگوئی کی گئی تھی۔اس جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا رہنا ثابت ہے اور پھر اسی جگہ کے متعلق مکہ والے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یہاں رہے اور یہیں ان کے آثار پائے جاتے ہیں لیکن وہ جگہ جسے یہودی اور عیسائی فاران قرار دیتے ہیں اس میں رہنے والے لوگ یہ کبھی نہیں کہتے کہ وہاں حضرت اسمٰعیل ؑ آکر رہے تھے۔حالانکہ لوگ فخر حاصل کرنے کے لئے بلا وجہ بھی ایسی باتوں کو اپنی طرف منسوب کرلیتے ہیں۔(۵) پھر وہ چشمہ جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے لئے خدا تعالیٰ نے نکالا تھا وہ بھی مکہ ہی میں ہے جو اس بات کا ایک یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑاور حضرت ہاجرہ ؑ یہیں آکر آباد ہوئے تھے۔پھر انجیل میں بھی ایک پیشگوئی قبلہ کے بدلنے کے متعلق پائی جاتی ہے۔یوحنا باب۴ آیت ۲۰،۲۱ میں لکھا ہے کہ ایک سامری عورت نے جس سے مسیح نے پانی مانگا تھا کہا کہ ’’ہمارے باپ دادوں نے اس پہاڑ پر پرستش کی اور تم کہتے ہو کہ وہ جگہ جہاں پرستش کرنی چاہیے یروشلم میں ہے یسوع نے اس سے کہا اے عورت! میری بات کا یقین رکھ کہ وہ گھڑی آتی ہے