تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 546
تیسری خبر اس پیشگوئی میں یہ دی گئی تھی کہ ایک شریعت جدیدہ فاران کی پہاڑیوں پر ظاہر ہونے والی ہے۔فاران کی پہاڑیوں سے مراد مکہ کی پہاڑیاں ہیں۔کیونکہ عرب لوگ ہمیشہ سے مکہ کے پاس کے میدان کو دشتِ فاران کہتے چلے آئے ہیں فاراؔن کے معنے درحقیقت دو بھاگنے والوں کے ہیں۔اور یہ نام اس جگہ کو حضرت ہاجرہؓ اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی وجہ سے ملا ہے جو بائیبل کے بیان کے مطابق سارہؓ کے ستانے کی وجہ سے یہاں آکر آباد ہوئے۔بے شک بائیبل میں مختلف جگہوں کا نام فاران آتا ہے(پیدائش باب ۱۴ ، ۲۱۔گنتی باب ۱۰ ،۱۲،۱۳۔سلاطین باب ۱۱۔سموئیل باب ۲۵۔حبقوق باب ۳) مگر اوّل تو مختلف جگہوں کے نام فاران آنا ہی اس امر کا ثبوت ہے کہ فاران کی تعیین کے لئے ضروری ہے کہ پیشگوئی کے واقعات کو ملحوظ رکھا جائے۔اور دیکھا جائے کہ وہ کس فاران پر چسپاں ہوتے ہیں۔اگر ایک ہی جگہ کا نام فاران ہوتا تب تو اور بات تھی لیکن چونکہ کئی مقامات کا نام فاران آتا ہے اس لئے فاران کی تعیین صرف پیشگوئی کے واقعات سے ہی کی جا سکتی ہے اس کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں۔مثلاً اگر فاران کی پہاڑیوں سے مکہ کی پہاڑیاں مراد نہیں بلکہ کوئی اور مقام مراد ہے تو سوال یہ ہے کہ وہاں کون شخص آیا ہے جس کے ساتھ دس ہزار قدوسی تھے اور کس کے ہاتھ میں آتشی شریعت تھی اور وہ بھی اس کے داہنے ہاتھ میں۔عیسائی تو بائیں ہاتھ چلو کے قائل ہیں اگر ان واقعات پر نگاہ ڈالی جائے تو صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ایک ایسے وجود ثابت ہوتے ہیں جنہیں ایک آتشی شریعت دی گئی۔جو دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوئے اور جنہوں نے ہر کام میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دی۔گویا ان واقعات نے ثابت کر دیا کہ فاران سے صرف وہی فاران مراد ہے جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوئے تھے کوئی اور فاران مراد نہیں۔دوم۔بائیبل میں مختلف جگہوں کا نام فاران آنا یہ شبہ بھی پیدا کرتا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی پیشگوئیوں کو مشتبہ کرنے کے لئے اس قسم کے نام رکھ دیئے ہوں گے جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت سے پہلے جب یہود نے اپنے علماء سے سُنا کہ عرب میں ایک نبی مبعوث ہونے والا ہے جس کا نام محمدؐ ہو گا تو انہوں نے بھی اپنے بچوں کا نام محمد رکھنا شروع کر دیا تاکہ وہی اس پیشگوئی کے مصداق ہو جائیں۔(طبقات ابن سعد جلد اوّل زیر عنوان ذکر من تسمّٰی بالجاھلیة محمد و اسد الغابة ذکر محمد بن أحیحہ) اسی طرح ممکن ہے بنی اسرائیل نے فاران کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کو دیکھتے ہوئے مختلف مقامات کا نام فاران رکھنا شروع کر دیا ہو۔تاکہ آنے والا وہیں ظاہر ہو۔مگر لوگوں کے خود ساختہ نام دھرے کے دھرے رہ گئے اور خدا تعالیٰ