تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 527

شَھِیْدٌ کے معنے ہیں اَلشَّاھِدُ نگران(۲) اَ لْاَمِیْنُ فِی الشَّھَادَۃِ جو اپنی شہادت میں بہت سچ بولنے والا ہو۔(۳) اَلْقَتِیْلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مارا جائے(۴) اَلْعَالِمُ الَّذِیْ لَا یَغِیْبُ عَنْ عِلْمِہٖ شَیْ ءٌ وہ عالم جس کے علم سے کوئی بات غائب نہ ہو(۵) اَلَّذِیْ یُعَایِنُ کُلَّ شَیْءٍ جو ہر چیز کو دیکھتا ہو۔(اقرب) کُنْتَ: کَانَ کے ایک معنے ہیں ’’ہے‘‘ اور اس کے دوسرے معنے صَارَ کے بھی ہوتے ہیں یعنی ’’ہو گیا‘‘ اور اس کے تیسرے معنے ’’تھا ‘‘کے بھی ہوتے ہیں اس لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ ہم نے نہیں مقرر کیا اس قبلہ کو جس پر پہلے ُتو تھا۔یا جس کی طرف ُ تو اب پھر گیا اور جس پر اب قائم ہو گیا ہے۔گویا ایک معنیٰ کی رو سے تبدیلی سے پہلے قبلہ کی طرف اشارہ کرنا ہے اور دوسرے معنے کی رو سے تبدیلی کے بعد کے قبلہ کی طرف اشارہ کرنا ہے۔نَعْلَمَ:عَلِمَ سے نکلا ہے اور اس کے معنے جاننے کے ہیں۔عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ کبھی سبب کو مسبّب کی جگہ رکھ دیتے ہیں یعنی جو چیز کسی دوسری چیز کا باعث ہوتی ہے اس کو اس نتیجہ کی جگہ رکھ دیتے ہیں جو اس کی وجہ سے پیدا ہوا ہوتا ہے اور کبھی اس کے اُلٹ بھی کر لیتے ہیں۔اس جگہ سبب کو مسبّب کی جگہ رکھا ہے۔علم کا نتیجہ امتیاز پیدا کرنا ہوتا ہے اور اس سے انسان کو اس بات کا پتہ لگ جاتا ہے کہ فلاں چیز اچھی ہے یا بُری پس چونکہ تمیز علم سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اسجگہ تمیزکی بجائے علم کا لفظ رکھ دیا ہے تاکہ یہ بھی ثابت ہو کہ تمیز بغیر علم کے نہیں ہوتی (بحر محیط زیر آیت ھذا) قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں اور لغت میں بھی اس کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں جیسا کہ سماء کا لفظ بادل کے معنوں میں آجاتا ہے اس لئے کہ بادل درحقیقت بلندیوں سے اور سورج کی روشنی سے بنتے ہیں۔چونکہ سماء بادل بننے کا موجب اور ذریعہ ہے اس لئے بادل کو بھی سماء کہنے لگ گئے ہیں۔پس لِنَعْلَمَ کے معنے یوں ہوئے کہ ہم نے یہ کام اس غرض سے کیا تھا تاہم ان لوگوں کو جو رسول کے متبع ہیں ان لوگوں سے جو اس کی طرف سے پھر جاتے ہیں ممتاز کر دیں(۲) اس کے معنے امتیاز کرنیکی یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ عربی زبان میں جب عَلِمَ کے بعد مِنْ صِلہ آئے تو اس وقت بھی علم سے تمیز مراد لی جاتی ہے چنانچہ ائمہ لُغت لکھتے ہیں کہ اَلْعِلْمُ لَایَتَعَدّٰی بِـمِنْ اِلَّا اِذَااُرِیْدَ بِہِ التَّمِیْزُ(بحرمحیط زیر آیت ھذا) یعنی عِلم کا مِنْ کے ساتھ کبھی تعد یہ نہیں کیا جاتا۔یعنی اسے متعدی نہیں بنایا جاتا سوائے اس صورت کے کہ اس سے تمیز مراد ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مِنْ تمیز کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ علم بمعنے جاننے کے معنے دینے کے لئے۔پس جب اس کے ساتھ مِنْ آجاتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ تمیز کے معنوں میں ہے (۳)علم کے معنے ظاہر کر دینے کے بھی ہوتے ہیں مگر یہ معنے عام لغات میں نہیں۔جنہوں نے قرآن کریم کی لغات لکھی ہیں انہوں نے یہ معنے لکھے ہیں اور قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ یہ معنے درست ہیں۔