تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 526

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى اور (اے مسلمانو! جس طرح ہم نے تمہیں سیدھی راہ دکھائی ہے) اُسی طرح ہم نے تمہیں ایک اعلیٰ درجہ کی اُمت بنایا ہے تاکہ تم النَّاسِ وَ يَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا (دوسرے) لوگوں کے نگران بنو اور یہ رسول تم پر نگران ہو۔اور ہم نے اس قبلہ کو الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ جس پر تُو (اس سے پہلے قائم) تھا صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ تا ہم اُس شخص کو جواس رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ اُس شخص کے مقابل پر جو ایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے (ایک ممتاز حیثیت میں) جان لیں اور یہ امر ان لوگوں کے سوا لَكَبِيْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے (دوسروں کے لئے) ضرور مشکل ہے۔اور اللہ (تعالیٰ ایسا ) نہیں کہ تمہارے لِيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۰۰۱۴۴ ایمانوں کو ضائع کرے۔اللہ یقیناً سب انسانوں پر نہایت مہربان (اور) باربار رحم کرنے والا ہے۔حَلّ لُغَات۔اُمَّۃً وَسَطًا۔وَسَط کے معنے درمیان کے ہوتے ہیں چونکہ درمیان میں رہنے والی (یعنی حدِّ اعتدال کے اندر رہنے والی) چیز ہمیشہ اعلیٰ ہوتی ہے۔اس لئے محاورہ میں وَسَط کے معنے اعلیٰ کے ہو گئے ہیں۔افسرانِ اعلیٰ بھی فوج کے درمیان ہوتے ہیں چنانچہ فوج کے کچھ دستے ان کے آگے اور کچھ پیچھے ہوتے ہیں اور وہ خود درمیان میں ہوتے ہیں کیونکہ اعلیٰ چیز کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے درمیانی چیز اعلیٰ کے معنوں میں آتی ہے۔عربی زبان میں وَسِیْط اُسے کہتے ہیں جو قوم میں سب سے زیادہ شریف ہو۔چونکہ اُمت محمدیہ نہ تو اُمتوں کے درمیان ہے اور نہ تعلیم میں کم ہے بلکہ فرماتا ہے کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ(اٰل عمران: ۱۱۱) تم تمام اُمتوں میں سے بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہو۔اس لئے اس کے معنے ہیں اعلیٰ اور اکمل۔