تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 528
عِلم کے معنے ظاہر کرنے کے سورۃ احزاب کی اس آیت میں آتے ہیں کہ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَ ضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَ زْوَجِھِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ(الاحزاب : ۵۱) یہاں قطعی اور یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ علم کے معنے ظاہر کرنے کے ہیں کیونکہ کوئی اپنی بات کے متعلق جاننے کا لفظ استعمال نہیں کیا کرتا۔مثلاً یہ کبھی نہیں کہا جاتا کہ مجھے علم ہے کہ میں کل لاہور گیا تھا۔اگر کوئی شخص ایسا کہے تو سُننے والے ہنس پڑیں گے کہ یہ کیسی بیوقوفی کی بات ہے۔پس اگر اس جگہ یہ معنے کئے جائیں کہ جو کچھ ہم نے فرض کیا ہے اس کا ہمیں علم ہو گیا ہے تو یہ درست نہیں کیونکہ علم غیر کے متعلق ہوا کرتا ہے اس لئے اس کے معنے علم کے نہیں بلکہ یہ معنے ہیں کہ جو کچھ ہم نے ان پر فرض کیا تھا وہ ہم نے ظاہر کر دیا ہے یا بتا دیا ہے پس چونکہ اس آیت میں سوائے ظاہر کرنے اور بتا دینے کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے۔اس لئے یہی معنے کرنے پڑیں گے۔اور یہی اِلَّا لِنَعْلَمَ کا مفہوم ہے۔رَءُ وْفٌ: رَأْ فَۃٌ اور رَحْمَۃٌ دونوں قریب قریب الفاظ ہیں۔مگر ان میں کچھ فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ رأفت خاص اور رحمت عام ہے۔رَأْفَۃٌ میں دفع شر کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور رحمت میں دفع شر اور ایصال خیر دونوں شامل ہوتے ہیں بیمار کو دیکھ کر رأفت پیدا ہوتی ہے اور اس کی بیماری کی وجہ سے رحمت پیدا ہوتی ہے۔کسی کو دکھ میں دیکھ کر جو جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ رأفت کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتا ہے اور رحمت کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتا ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ احسان رحمت سے زیادہ تعلق رکھتا ہے اور تکلیف کا دُور کرنا رأفت کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں كَذٰلِكَ کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا اشارہ کس طرف ہے سو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ اشارہ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ کی طرف ہے۔یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ سے یہ مضمون نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت دیا کرتا ہے اور اس نے تم کو اپنے فضل سے ہدایت دے دی۔اب کسی کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے اسی کی طرف کَذٰلِک میں اشارہ ہے یعنی جس طرح اس نے تمہیں ہدایت دی ہے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی ہے اسی طرح اُس نے دوسرا احسان تم پر یہ کیا ہے کہ اس نے تمہیں اُمَّۃً وَ سَطًا بنایا ہے جیسا کہ حلِّ لُغات میں بتایا جا چکا ہے وسط کے معنے درمیان کے ہوتے ہیں لیکن اُمت محمدیہؐ نہ زمانہ کے لحاظ سے درمیانی اُمّت ہے اور نہ تعلیم اور شریعت کے لحاظ سے درمیانی امت ہے۔زمانہ کے لحاظ سے تو اس لئے درمیانی امت نہیںکہ امت محمدیہؐ کے بعد اب قیامت تک اور کوئی امت نہیں پس وہ آخری امت تو کہلا سکتی ہے مگر درمیانی نہیں اور اگر شریعت کو دیکھا جائے تو اس لحاظ سے بھی امت محمدؐیہ درمیانی امت نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نئی شریعت نہیں آنی کہ کہا جائے کہ کچھ شریعتیں اس سے پہلے آچکی ہیں اور کچھ بعد میں آئیں گی اور یہ اُمت