تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 525
استعمال ہوئے تھے تو وہاں اس کے یہ معنے کئے گئے تھے کہ تم جدھر چاہو منہ کرو۔اب انہی الفاظ سے ایک قبلہ کی دلیل اخذ کی گئی ہے د۲و متضاد مضمون ایک ہی دلیل سے کس طرح نکل سکتے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ نہ پہلے اس دلیل سے قبلہ کا ردّ کیا گیا ہے اور نہ اس سے قبلہ کو ثابت کیا گیا ہے بلکہ پہلی جگہ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تَوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ(آیت ۱۱۶) میں بتایا تھا کہ سب کچھ خدا کا ہے وہ ایک دن تمہیں مشرق و مغرب کا حکمران بنا دیگا اور تمہیں اپنے فضل سے سب کچھ دے دیگا۔اور اب یہ بتایا ہے کہ قبلہ اصل مقصود نہیں ہوتا کہ اس پر اعتراض کیا جائے بلکہ اصل چیز تو خدا تعالیٰ کی اطاعت ہے اور خدا جدھر منہ کرنے کا حکم دے اسی طرف منہ کرنا انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق بناتا ہے۔پھر پہلی آیت بھی مدینہ میں نازل ہوئی ہے جبکہ دشمنوں کے نزدیک بھی وہاں قبلہ مقرر ہو چکا تھا۔پھر قرآن کریم یہ کب کہہ سکتا تھا کہ کسی خاص قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ جب قبلہ مقصود نہیں تو پھر مقرر کیوں کیا۔کیونکہ جس طرح کسی مشورہ کے لئے جمع ہونے والے لوگ گو کسی خاص جگہ پر جمع ہونا اپنا مقصد نہیں ٹھہراتے مگر پھر بھی اُنکو جگہ اور وقت کی تعیین کرنی پڑتی ہے اسی طرح قبلہ گو اصل مقصود نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اتحاد قائم کرنے اور اُن کی صفوں کو درست رکھنے کے لئے ایک جہت مقر ر کر دی ہاں سفر میں اگر قبلہ معلوم نہ ہو یا قبلہ تو معلوم ہو مگر نماز شروع کرنے کے بعد ریل یا جہاز یا سواری کا رُخ قبلہ کی طرف سے بدل جائے تو نماز میںکوئی نقص واقع نہیں ہوتا جو اس بات کی دلیل ہے کہ جہت بالذات مقصود نہیں بلکہ اتحاد اور تنظیم اور صفوں کی درستی کے لئے اُس کی تعیین کی گئی ہے۔پھر فرمایا يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے ایک سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔’’ایک سیدھی راہ ‘‘ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر زمانہ کے لحاظ سے تعلیمات کسی قدر فرق کے ساتھ آتی ہیں کیونکہ یہ الہٰی سنت ہے کہ وہ جس قوم پر فضل کرتا ہے اس کے مناسب حال تعلیم بھی بھیج دیتا ہے مسلمانوں کے مناسب حال قبلہ کعبہ ہی تھا چنانچہ آخر اس نے ان کو اس کی طرف پھیر دیا اوروہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کر دیا تھا اور جو سمجھتے تھے کہ ہمارا کام یہی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی آواز کے پیچھے چلیں اور مشرق و مغرب کی حد بندیوں سے اپنی نگاہ کو بالا رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی مخلصانہ اطاعت کی توفیق بخشی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ پھیرتے ہی انہوںنے بیت اللہ کی طرف اپنے منہ کر لئے اور صراطِ مستقیم پر دوڑتے چلے گئے۔