تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 524

بلکہ اس کی تعیین بعض اور حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے مثلاً بڑی وجہ تو یہی ہے کہ اس کے ذریعے اتحاد قائم رہتا ہے۔اگر نماز کے لئے کوئی خاص جہت مقرر نہ کی جائے تو کسی کا منہ مشرق کو ہو گا اور کسی کا مغرب کو کسی کا شمال کو اور کسی کا جنوب کو اور ان میں کوئی تنظیم اور یکجہتی نظر نہیں آئیگی۔پس مسلمانوں میں اتحاد قائم کرنے اور پھر صفوں کو درست رکھنے کے لئے اسلام نے ایک جہت مقرر کر دی۔ہاں ریل اور جہاز میں اگر قبلہ معلوم نہ ہو تو انسان جدھر چاہے نماز پڑھ سکتا ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ جہت بالذات مقصود نہیں بلکہ تنظیم اور اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لئے اس کی تعیین کی گئی ہے۔پھر بیت اللہ کو قبلہ عالم مقرر کرنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ مکہ والوں میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمائے جو دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کا موجب ہو۔اس کے ہاتھ پر آیاتِ الہٰیہ کا ظہور ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایک کامل شریعت عطا ہو۔وہ شریعت کے اسرار اور غوامض کو بیان کرنےوالا ہو اور تزکیہ نفوس اس کا کام ہو۔یہ دعا اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ آنے والا عظیم الشان نبی اور اس کے متّبع بیت اللہ سے تعلق رکھنے والے ہوں تاکہ جب بھی وہ اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کریں انہیں وہ ابراہیمی دعا یاد آجائے جو انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لئے کی تھی۔جب ایک انسان اَللّٰہُ اَکْبَرْکہہ کر نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور بیت اللہ کی طرف اس کا منہ ہوتا ہے تو معاً اس کا ذہن اس دعا کی طرف پھر جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں میرا کام بھی یہی ہے کہ میں لوگوں کو آیاتِ الہٰیہ کی طرف توجہ دلائوں۔اُنہیں کتاب اللہ کا علم سکھائوں۔احکامِ الہٰیہ کی حکمت اُن پر روشن کروں اور انہیں پاکیزہ اور مطہّر بنانے کی کوشش کروں۔یہ عظیم الشان مقصد لنڈن یا نیویارک کی طرف منہ کرنے سے کسی کی آنکھوں کے سامنے نہیں آسکتا۔نہ پیرس کی طرف منہ کرنے سے انسانی قلب میں یہ ولولہ پیدا ہو سکتا ہے۔اس کی طرف منہ کرنے سے تو ناچنے اور گانے کا ہی خیال آئے گا عبادت اور زہد اور خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا کبھی خیال نہیں آئے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ ہر جگہ ہے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ عرب میں ہے اور امریکہ میں نہیں یا مکہ میں ہے اور افریقہ میں نہیں۔لیکن بعض چیزیں اپنے اندر ایسے محرکات رکھتی ہیں جو انسان کو غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کر دیتی ہیں اس لئے خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر کیا گیا ہے ورنہ خدا تعالیٰ ہر قسم کے تجسّم سے بالا ہے اور اس کے قرب کے دروازے دنیا کے ہر انسان کے لئے کھلے ہیں۔لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ۔پر بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ یہی الفاظ سورۂ بقرہ کے چودھویں رکوع میں