تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 514
سے تعلق رکھتاہے بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے اور خدا ہمارا بھی ہے اور تمہارا بھی اس لئے اس کی طرف سے جو دین بھی آئے اس کے ماننے میں تمہیں کوئی عذر نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ انسان کی نجات اسی میں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین کی اتباع کرے۔ملّت کے مفہوم کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کی نیکی اُسی وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس کا نفس اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے ماتحت چلتا ہے لیکن جب وہ خدائی راہنمائی کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتا ہے اور خدائی طریق کے علاوہ کوئی اور طریق اختیار کر لیتا ہے تو وہ خواہشات اُسے ہلاکت اور بربادی کے گڑھے میں گرادیتی ہیں۔پھر فطرت کے مفہوم کے لحاظ سے اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انسان کو ہمیشہ فطرتِ صحیحہ سے کام لیتے ہوئے اختلافات کا فیصلہ کرنا چاہیے کیونکہ ہر انسان کی فطرت اللہ تعالیٰ نے پاک بنائی ہے اور اس سے سچائی کو پہچاننے میں بڑی بھاری مدد ملتی ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ فطرتِ صحیحہ مذہب کی قائم مقام ہے وہ مذہب کی قائم مقام نہیں بلکہ مذہب کے پہچاننے کا ایک ذریعہ ہے اگر کسی کو فطرتِ صحیحہ نصیب نہ ہو تو اُسے سچا مذہب بھی معلوم نہیں ہو سکتا۔فطرت صحیحہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کے پاس اس کے دوست کا خط آجائے تو وہ اُس کے پڑھنے کے لئے عینک لگالے لیکن اگر وہ عینک لگا کر ہی بیٹھا رہے اور خط نہ پڑھے تو ہر شخص اُسے احمق قرار دیگا۔اسی طرح دین بھی ایک خط ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اور عینک فطرت صحیحہ ہے۔جس طرح خط اصل چیز ہے اور اس سے منہ پھیرنا اور صرف عینک پر اکتفاء کر لینا جہالت ہے۔اسی طرح جو شخص فطرت صحیحہ کے بعد مذہب کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی احمق ہے۔صِبْغَۃَ اللّٰہِ کے ایک یہ بھی معنے ہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو۔یعنی ہمیشہ صفاتِ الہٰیہ کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو۔اور دیکھتے رہو کہ کیا تم صفات الٰہیہ کے مظہر بنے ہو یا نہیں بنے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اسی غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صفاتِ الہٰیہ کا مظہر بنے اور اس کی قابلیت خود اس نے انسانی فطرت کے اندر و دیعت کر دی ہے۔کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کی ربوبیت کا مظہر نہیں بن سکتایا رحمانیت کا مظہر نہیں بن سکتایا رحیمیت کا مظہر نہیں بن سکتا۔یا مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کا مظہر نہیں بن سکتا۔اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں یہ تمام قابلیتیںرکھ دی ہیں اور اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقَ اللّٰہُ اٰدَمَ عَلیٰ صُوْرَتِہٖ (بخاری کتاب الاستئذان باب بدء السلام) یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔