تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 515

یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مادی شکل نہیں اور نہ اسلام اس کا قائل ہے پس اللہ تعالیٰ کی صورت پر آدم کوپیدا کرنے کا یہی مفہوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدم میں صفاتِ الہیہ کا مظہر بننے کی قابلیت رکھ دی۔اب کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں ان صفات کو اپنے وجود کے ذریعہ ظاہر نہیں کر سکتا۔جس طرح خدا تعالیٰ ستّار ہے۔اسی طرح وہ بھی ستّار بن سکتا ہے۔جس طرح خدا شکور ہے اسی طرح وہ بھی شکور بن سکتا ہے۔جس طرح خدا وہاب ہے اسی طرح وہ بھی وہاب بن سکتا ہے۔جس طرح خدا رزّاق ہے اسی طرح وہ بھی اپنے دائرہ میں رزاق بن سکتا ہے۔اور درحقیقت اسلامی نقطہ نگاہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب بھی وہی شخص حاصل کرتا ہے جو صفاتِ الٰہیہ کا مظہربن کر اللہ تعالیٰ سے مشارکت پیدا کر لیتا ہے۔اور اسی کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے۔دیکھو آک کا ٹِڈا آک کے پتوں میں رہ کر ویسا ہی رنگ اختیار کر لیتا ہے اور تیتری جن پھولوں میں اُڑتی پھرتی ہے اُن کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔کیا ہم ٹِڈّوں اور تیتریوں سے بھی گئے گذرے ہیں۔اور ہمارا خدا نعوذباللہ آک اور پھولوں سے بھی گیا گذرا ہے کہ ٹڈا اگرآک میں رہتا ہے تو ان کا رنگ قبول کر لیتا ہے تیتریاںجن پھولوں میں رہتی ہیں ان کا رنگ اخذ کر لیتی ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کے بندے اس کے پاس جائیں اور وہ اس کا رنگ قبول نہ کریں۔دراصل اپنے دل کی بدظنی ہی ہوتی ہے جو انسان کو ناکام و نامراد رکھتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے۔اَ نَاعِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ۔(صحیح مسلم کتاب الذکر والدعا والتوبۃ والاستغفار باب الحث علی ذکر اللہ ) جیسا بندہ میرے متعلق گمان کرتا ہے ویسا ہی میں اس سے سلوک کرتا ہوں۔وہ لوگ جن کے دلوںمیں اپنی عظمت کا احساس نہیں ہوتا یا خد ا تعالیٰ کے متعلق یقین نہیں ہوتا ان کو کچھ نہیں ملتا۔لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں معزز بنایا ہے اور بڑی بڑی طاقتیں عطا کی ہیں اور وہ یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بڑا رحم کرنے والا ہے اور بڑے بڑے انعام دینے والا ہے وہ خالی نہیں رہتے بلکہ اپنے ظرف کے مطابق اپنا حصہ لے کر رہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں توجہ دلائی ہے کہ تم دنیا میں کسی نہ کسی کا رنگ اختیار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اور جب تم نے بہرحال کسی کا رنگ اختیار کرنا ہے تو ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تم اپنے دوستوں کا رنگ اختیار نہ کرو۔تم اپنے بیوی بچوں کا رنگ اختیار نہ کرو تم اپنے اساتذہ کا رنگ اختیار نہ کرو تم اپنے ماحول کا رنگ اختیار نہ کرو۔تم اپنی حکومت کا رنگ اختیار نہ کرو بلکہ تم خدائے واحد کا رنگ اختیار کرو۔کیونکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے اور اس سے تعلق ہی تمہاری نجات کا موجب ہو سکتا ہے۔وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اور خوبصورت رنگ تم پر اور کون چڑھا سکتا ہے۔اس رنگ کے بعد تم بہروپئے نہیں بنوگے بلکہ ایک حسین ترین وجود بن جائو گے جسے دیکھ کر دنیا کی آنکھیں خیرہ ہو جائیںگی اور