تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 513
فرماتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ دشمن کس طرح اور کس رنگ میں حملہ کریگا۔اگر تم کو اس کے حملہ کا علم ہو مگر تم دفاع کی طاقت نہ پاؤتو ایک سمیع اور علیم خدا موجود ہے۔وہ جانتا ہے کہ دشمن تم پر حملہ آور ہے اور تم میں اس کے دفاع کی طاقت نہیں۔پس تم گھبرائو نہیں۔تم ہمیں آواز دو۔ہم فوراً تمہاری مدد کیلئے آجائیں گے۔اور اگرتم سوئے ہوئے ہو یا راستہ پر سے گذر رہے ہو یا تاریکی میں سفر کر رہے ہو اور دشمن نے اچانک تم پر حملہ کر دیا ہے یا کھانے میں زہر ملا دیا ہے یا چوری سے مال نکال لیا ہے۔یا کسی دوست سے مل کر اُس نے تم پرحملہ کر دیا ہے اور تمہیں اس کا علم نہیں ہوا۔توفرماتا ہے کہ ہم علیم ہیں ہم خوب جاننے والے ہیں اور ہمیں ہر قسم کی قوتیں حاصل ہیں۔اس لئے ایسی حالت میں بھی تم گھبراؤنہیں۔بلکہ اللہ تعالیٰ کو پکارواور اُس سے دعائیں کرو۔وہ تمہاری تمام مشکلات کو دُور کر دیگااور تمہارے دشمن کو ناکام اور ذلیل کرےگا۔صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١ٞ وَّ نَحْنُ (اے مسلمانو! ان سے کہو کہ ہم تو)اللہ کا دین (اختیار کریں گے) اور دین (سکھانے کے معاملہ) میں اللہ (تعالیٰ)سے کون بہتر ہوسکتا ہے۔لَهٗ عٰبِدُوْنَ۰۰۱۳۹ اور ہم اُسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔حَلّ لُغَات۔صِبْغَۃً کے معنے ہیں مِلَّت۔دِین۔فطرت۔چمڑے کو رنگ دینا۔غوطہ دینا، چمٹا دینا۔(اقرب)اس لحاظ سے صِبْغَۃَ اللّٰہِ کے معنے ہیں اللہ کے دین کو اختیار کرو۔یا اللہ کے بتائے ہوئے طریق کو اختیار کرو۔یا اللہ کی دی ہوئی فطرت کو اختیار کرو۔تفسیر۔صِبْغَۃَ اللّٰہِ کے معنے جیساکہ حل لغات میں بتایا گیا ہے دین کے بھی ہیں۔ملّت کے بھی ہیں۔فطرت کے بھی ہیں اور کسی چیز کو رنگ دینے کے بھی ہیں یہ لفظ اس جگہ مفعول بہٖ استعمال ہوا ہے جو اس لفظ کے آخر کی زبر سے جو مفعول بہٖ کا نشان ہے ظاہر ہے عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جہاں کسی کو کسی کام کی ترغیب دلانی ہو وہاں اس فعل کو جس میں ترغیب کے معنے پائے جاتے ہیں حذف کر دیا جاتا ہے اور صرف مفعول بہٖ بیان کر دیا جاتا ہے۔یہاں بھی اِتَّبِعُوْا محذوف ہے اور اصل فقرہ یوں ہے اِتَّبِعُوْا صِبْغَۃَ اللّٰہِ یعنی تمہارے لئے مناسب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کو اختیار کرو اور اس سوال کو جانے دو کہ خدا تعالیٰ نے یہ تعلیم کس شخص پر اتاری ہے اور وہ کونسی قوم