تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 43

سے کم نہ تھا۔اور جس علاقہ میں کثرت سے بڑے بڑے شہر اور قصبات ہوں وہ ان کے لئے ایسا حیرت انگیز امر تھا کہ اس علاقہ کا نام شہری ملک رکھ دینا ان کے لئے ایک طبعی امر تھا۔پس صرف مصر کے لفظ سے بنی اسرائیل کے جلاوطنی کے واقعات کو افریقی مصر کے علاقہ سے بد لا نہیں جا سکتا۔راستہ کی جزئیات میں مشکلات کی وجہ سے اس اصولی سوال کو نظر انداز اکر دینا کہ بائبل اور قرآن کریم دونوں کے نزدیک اِس مصر کے بادشاہ فرعون کہلاتے تھے اور قرآن کریم کے اس بیان کی روشنی میں کہ اس مصر میں مُردوں کی لاشوں کو دیر تک قائم رکھنے کا رواج تھا۔ایسا ہی ہے جیسا کہ کسی شخص کی شناخت کو اس لئے مشتبہ کر دیا جائے کہ گو اس کا حُلیہ اس کا نام اور اس کے باپ کا نام تو مذکورہ علامات کے مطابق ہے لیکن اس کے رومال کا رنگ وہ نہیں جو بتایا گیا تھا۔پرانے زمانہ کے حالات اس طرح محفوظ نہیں کہ ہم اُس زمانہ کے حالات کو سو فیصدی درست معلوم کر سکیں۔پس ہمیں ستّر فیصدی اتفاق کو مشعلِ راہ سمجھتے ہوئے تیس فیصدی اختلاف کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔اور تیس فیصدی اختلاف پر ستر فیصدی اتفاق کو قربان کر دینے کی حماقت سے بچنا چاہیے۔بنی اسرائیل کے متعلق بعض لوگوں کا خیال کہ وہ مصر کی طرف نہیں گئے اور اس کے تین دلائل۔بعض لوگ تاریخ کی منفی یا مثبت شہادت سے اس امر کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ بنی اسرائیل مصر کی طرف نہیں گئے۔ان کے استدلال کی وجوہ یہ ہیں:۔(۱) مصری آثارِ قدیمہ میں بنی اسرائیل کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔(اسرائیل مصنّفہ اڈولف لاڈز صفحہ ۱۶۷) (۲) مِنْفَتَاح جس کے زمانہ میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑبنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لائے۔اس کے زمانہ کے ایک پرانے اثر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حکومت کے پانچویں سال میں بنی اسرائیل کے کچھ قبائل کنعان میں بس رہے تھے۔اور بائبل بتا رہی ہے کہ بنی اسرائیل اس کے زمانہ میں وہاں سے نکلے اور کوئی ۵۰ سال میں جا کر کنعان میں داخل ہوئے۔(۳) بیشک مصر میں بعض ایشیائی قبائل کے ورود کا پتہ ملتا ہے۔لیکن ان واقعات کو اگر بنی اسرائیل پر چسپاں کیا جائے تو کبھی واقعات ملتے جلتے ہیں مگر تاریخیں ٹھیک نہیں بیٹھتیں۔اور کبھی تاریخیں ٹھیک بیٹھتی ہیں تو واقعات مطابقت نہیں کھاتے پس معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب بناوٹی کہانی ہے۔بنی اسرائیل کے مصر کی طرف نہ جانے کے دلائل کا ردّ چونکہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے مصر میں جانے اور وہاں سے آنے کا ذکر کرتا ہے۔ہم اس اعتراض کی طرف توجہ کرنے پر مجبور ہیں۔اور اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ (۱) یہ ضروری نہیں کہ ہر امر کا آثارِ قدیمہ سے حال معلوم ہو جائے۔کیا اگر آج تہذیب کی ترقی کے زمانہ میں کسی