تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 42

تھے بلکہ وہ اُس مصر میں رہتے تھے جو شمالی عرب میں واقع تھا اور ان کے نزدیک مُصر سے غلطی کھا کر بنی اسرائیل نے بائبل میں مِصر لکھدیا۔(انسا ئیکلوپیڈیاببلیکا زیر لفظ Exodus) اِس تھیوری کے مطابق اگر سمندر کے عبور کرنے کا واقعہ صحیح تسلیم کیا جائے تو بنی اسرائیل مغرب سے مشرق کو نہیں بلکہ مشرق سے مغرب کی طرف گئے تھے اور خلیج سویز نہیں بلکہ خلیج عقبہ کو۔سویز کے پاس سے نہیں بلکہ عقبہ کے پاس سے انہوں نے عبور کیا تھا۔اگر عربی مصر کا جائے وقوع اس مقام سے اوپر سمجھا جائے تو پھر سمندر عبور کرنے کا واقعہ ان لوگوں کے نزدیک سراسر فرضی قرار پائے گا۔آثارقدیمہ سے مصرنامی علاقہ کاشمالی افریقہ، شمالی شام اورشمالی عرب میں پائے جانے کا ثبوت اور مغر بی مصنفوں کے لئے تعیینِ مقام ، عبور میں مشکل اور اس کا حل آثار قدیمہ کی تحقیق اور پرانی تاریخوں سے یہ امر پوری طرح ثابت ہو چکا ہے کہ مصر نامی علاقہ بہ تغیر اشکال شمالی افریقہ۔شمالی شام اور شمالی عرب میں پایا جاتا تھا۔بلکہ ان تین علاقوں کے علاوہ اَور مقامات بھی مصر یا مصران یا مصرام یا مصرائیم یا مُصْری کہلاتے تھے۔اور اسی وجہ سے بائبل کی بیان کردہ تفصیلات میں سے بعض کو شمالی افریقہ کے ملک مصر پر منطبق نہ دیکھتے ہوئے بائبل کے علوم کے جدید محققین میں سے بعض نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ افریقوی مصر نہیں بلکہ اگر یہ واقعات گزرے ہیں تو عربی مصر میں گزرے ہیں۔موسیٰ علیہ السلام کے مدائن جانے کو وہ اس کی دلیل قرار دیتے ہیں کیونکہ مدائن شمالی عرب کے مصر کے ساتھ ملتا تھا۔یہ امر کہ کئی علاقے مصر کہلاتے تھے مغربی مصنفوں کے لئے حیرت انگیز ہے لیکن عربی دانوں کے لئے نہیں۔مصر کے معنے عربی زبان میں شہر کے ہیں جن لوگوں کو کسی بڑے شہر کے پاس رہنے کا یا وہاں جانے کا موقع ملا ہے وہ جانتے ہیں کہ بڑے شہروں کے ارد گرد کے علاقے بعض دفعہ بیسیوں میل تک اپنے علاقہ کے شہر کا نام لے کر نہیں بلاتے بلکہ صرف شہر کہتے ہیں۔لاہور کے ارد گرد کے دیہات میں جب یہ کہا جائے کہ فلاں شخص شہر گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ لاہور گیا ہے۔انگریزی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ انگلستان میں بھی cityیعنی شہر کے لفظ سے انگلینڈ کے باشندے لندن مراد لیتے ہیں۔پس عرب لوگ اور عربی سے ملتی جلتی زبانیں بولنے والے اُس زمانہ میں کہ جب بڑے شہروں کا رواج کم تھا۔اگر کسی بڑے بڑے قصبات پر مشتمل علاقہ کو مصر کہتے تھے۔خواہ وہ شام میں ہو خواہ عرب میں خواہ افریقہ میں تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔مُصْری یا مصرام یا مصران یا مصرائیم سے ان کی مراد صرف یہ ہوتی کہ وہ شہروں والا علاقہ ہے۔عرب جیسی صحرا نور د قوم کے لئے شہروں میں بسنا ایک عجوبہ