تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 44
متمدن ملک کی تاریخ کو مٹا دیا جائے تو کیا اس کی پوری تاریخ اس کے آثار سے معلوم ہو سکے گی۔کیا مثلاً انگلستان یا یونائیٹڈسٹیٹس امریکہ یا جرمنی یا فرانس کی مکمل تاریخ تمام قوموں کے اعداد و شمار، مذاہب اور ان کے فرقوں کا حال اور ان کے علوم و فنون کا پورا پتہ کسی ایک یا دو شہروں کے نشانات سے لگایا جا سکتا ہے۔اگر موجودہ زمانہ کے صحیح حالات مکمل طور پر موجودہ زمانہ کے آثار سے بھی معلوم نہیں ہو سکتے تو اس سے زیادہ غیر معقول خیال کیا ہو گا کہ گزشتہ زمانہ کے تفصیلی حالات چند ہزار سال پہلے کے دو یا چار قصبات کے کھودنے سے معلوم ہو سکیں گے۔یہ تو ایسی خلافِ عقل بات ہے کہ اس پر کسی علم کی بنیاد رکھنی علم سے تمسخر کرنا ہے۔مثبت شہادت توخیر کچھ قیمت بھی رکھتی ہے۔گو اس میں بھی بہت سی غلطیوں کا امکان ہے مگر یہ کہنا کہ چونکہ فلاں قوم کا ذکر نہیں ملا اس لئے وہ وہاں نہ تھی۔ایسا خلاف عقل خیال ہے کہ اسے علمی کتب میں پیش کرنے سے مصنّفین کو خود ہی رکنا چاہیے تھا۔آخر بنی اسرائیل کی مصر میں حیثیت کیا تھی۔غلاموں کی طرح وہ رہتے تھے۔کوئی ایسے بڑے کام ان کے سپرد نہ تھے کہ ان کا ذکر تاریخی آثار میں آتا۔ان کی اہمیت کا باعث غالباً صرف یہ تھا کہ وہ ایک منفرد مذہب رکھتے تھے۔اور یا یہ کہ غالباً ان کے زمانہ کے مصری بادشاہ خالص مصری قوم سے نہ تھے اور وہ بنی اسرائیل سے ڈرتے تھے کہ یہ کسی دوسری قوم سے مل کر ہماری حکومت کو نقصان نہ پہنچائیں۔ان حالات میں آثارِ قدیمہ میں اُن کے نام آنے کی ضرورت ہی نہیں معلوم ہوتی۔اور اگر نام آتا بھی تو آثار قدیمہ سے صرف تاریخی ٹکڑے معلوم ہو سکتے ہیں پوری تاریخ معلوم نہیں ہو سکتی کہ ان کی خاموشی کوئی دلیل سمجھی جائے۔دوسری دلیل کہ کسی فرعونی اثر سے معلوم ہوتا ہے جو غالباً مِنْفَتَاح فرعونِ مصر کا اثر ہے یا اِس سے پہلے کے کسی بادشاہ کا کہ اس زمانہ میں بنی اسرائیل کنعان میں بستے تھے کوئی قابل توجہ جرح نہیں کیونکہ اگر یہ اثر جس کی تاریخ معین نہیں حضرت یوسفؑ کے بعد کے زمانہ کا ہےاور خروج موسیٰ ؑسے پہلے کا ہے۔تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا کچھ حصہ خروج موسیٰ ؑ سے پہلے بھی کنعان کی طرف روانہ ہو گیا تھا۔اور اگر یہ اثر یوسف علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے کا ہے یا ہجرت موسوی کے بعد کا۔تو اس سے کوئی خلاف نتیجہ نکلتا ہی نہیں۔تیسری دلیل یہ دی گئی ہے کہ بیشک بعض ایشیائی اقوام کا مصر میں ورود تاریخوں سے ملتا ہے مگر انہیں بنی اسرائیل سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں۔ایک خالص منفی دلیل ہے۔اور منفی دلیل ناقص آثار کی بناء پر کوئی بھی دلیل نہیں۔ایک کتاب جس کے آدھے ورق پھٹے ہوئے ہوں۔ان کی بناء پر کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ فلاں مضمون اِس کتاب میں نہیں کیونکہ وہ اِن ورقوں میں نہیں جو میرے پاس ہیں۔