تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 458
کرے تاکہ خانہ کعبہ کے قیام کا جو مقصد ہے وہ صحیح رنگ میں پورا ہو سکے۔گویا جس امن کی پیشگوئی خانہ کعبہ کے متعلق تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چاہا کہ وہ ا س جگہ آباد ہونے والے شہر کی طرف بھی منتقل ہو جائے۔درحقیقت خانہ کعبہ کی حرمت تو خدا تعالیٰ نے خود قائم فرمائی تھی مگر مکّہ مکرمہ کی حرمت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وجہ سے قائم ہوئی۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں مدینہ کو حرم بناتاہوں۔(بخاری کتاب الجہاد باب فضل الخدمة فی الغزوة) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس دُعا میں مثابہ کا لفظ چھوڑ دیا ہے اور صرف امن کی دُعا مانگی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک زائد دُعا کی ہے اور وہ یہ کہ اس گھر کے ساتھ ایک شہر بھی بن جائے اور وہ بھی امن والا ہو۔اور محض کسی شہر میں آنا ثواب کا موجب نہیں ہو سکتا تھا اس لئے انہوں نے اس حصہ کو چھوڑ دیا کیونکہ عبادت اور ثواب صرف خانہ کعبہ سے تعلق رکھتا ہے مکّہ سے نہیں۔پس آپ نے مثابۃ کو چھوڑ دیا اور امن کی دُعا کو لے لیا۔جو خانہ کعبہ کے لئے بھی ضروری تھی اور اس کے ارد گرد آباد ہونے والوں کے لئے بھی ضروری تھی۔اس دُعا سے معلوم ہو سکتا ہے کہ انبیاء اللہ تعالیٰ کے کلام کو پورا کرنے کے کس قدر حریص ہوتے ہیں اور وہ اس کے لئے کیا کیا کوششیں کرتے ہیں۔بعض لوگ نادانی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اگر فلاں الہام خدا تعالیٰ کا تھا تو مرزا صاحب نے اس کے پورا کرنے کی کیوں کوشش کی ؟ وہ یہ نہیںدیکھتے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدائی کلام کے پورا کرنے کے لئے اس کے معًابعد دُعائیں کرنی شروع کر دیں حالانکہ جب خدا تعالیٰ فرما چکا تھا کہ اس گھر کو عاکفین کے لئے صاف ستھرا رکھو۔تو اس کے معنے یہ تھے کہ یہاں لوگ مقیم بھی ہوںگے اور باہر سے بھی آئیں گے۔گویا اس لفظ میں ایک شہر بن جانے کی خبر دیدی گئی تھی۔پھر جو بات خدا تعالیٰ پہلے ہی منظور کر چکا تھا اس کے متعلق دُعا کرنے کے کیا معنے تھے؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ خدا تعالیٰ جو خبر دیتا ہے اس کے متعلق مومنوں کا بھی یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اُسے پورا کرنے کی کوشش کریں اور ان کی طرف سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے دُعائیں کرتے ہیں کہ اُن کی غفلت کی وجہ سے وہ وعدہ ٹل نہ جائے۔پھر دُعا کے ساتھ دوسری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ ظاہری سامان مہیا کرتے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب حضر ت ہاجرہؓ اور اسمٰعیل علیہ السلام وہاں بس گئے۔اور زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا تو انہی دنوں وہاں سے ایک قافلہ گزرا۔انہوں نے جب دیکھا کہ یہاں پانی کا وافر انتظام ہے تو انہوں نے حضرت ہاجرہؓ سے وہاں سکونت اختیار کرنے کی اجازت لی۔حضرت ہاجرہؓ نے اُن کی اس درخواست کو قبول فرمالیا۔اور انہیں وہاں پر رہائش کی اجازت دے دی(بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب یزفون