تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 459

النسلان فی المشی)۔یہ مکّہ کی آبادی کی دوسری تدبیر تھی کہ قافلہ والوں کو رہائش کے لئے زمین دے دی گئی تاکہ وہ بات پوری ہو۔جو خدا تعالیٰ نے فرمائی تھی کہ ہم نے اس مقام کو مثابہ بنایا ہے۔پس وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے فلاں بات کو پورا کرنے کی کیوں کوشش کی وہ درحقیقت کلامِ الٰہی کی حقیقت سے آگاہ نہیں۔خدا تعالیٰ کے بندوں کا سب سے بڑا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ اُن باتوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی طرف سے انتہائی کوشش کریں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے خبردی ہو اور کہا ہو کہ ایسا ہو جائے گا۔اگر کوئی کہے کہ خدا تعالیٰ کو کسی کی مدد کی کیاضرورت ہے تو یہ اعتراض صرف اس پیشگوئی پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ ہر بات پر پڑےگا۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ(الذاریات:۵۷) یعنی میں نے جنّ وانس کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اب اگر خدا تعالیٰ کی بات پوری کرنے کے لئے کوئی تدبیر کرنا جائز نہیں تو لوگوں کو نمازوں کی تلقین بھی چھوڑ دینی چاہیے اور کہنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ خود لوگوں سے نمازیں پڑھوالیگا ہم اس کے لئے کیوں کوشش کریں۔اسی طرح فرماتا ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ (الحجر:۱۰)یعنی ہم نے ہی یہ قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریںگے۔اب اگر یہ درست ہے کہ خدائی وعدوں کو پورا کرنے کے لئے کوشش نہیں کرنی چاہیے تو قرآن کریم کا حفظ کرنا بھی چھوڑ دینا چاہیے کہ یہ خدا تعالیٰ کے وعدہ کی بے حرمتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کا چھاپنا بھی بند کر دینا چاہیے کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ ہم ہی اس کی حفاظت کریںگے پھر ہم اسے کیوں چھاپیں۔غرض یہ ایک احمقانہ خیال ہے جسے کوئی معقول انسان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔بہر حال اس آیت سے یہ استدلال ہو سکتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کوئی بات کہے تو مومنوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اُسے پورا کرنے کے لئے ہر قسم کی تدابیر اور کوشش سے کام لیں اور اُس وقت تک صبر نہ کریں جب تک کہ خدا تعالیٰ کی بات پوری نہ ہو جائے۔دوسرا امر ا س سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندے کو ہمیشہ الہٰی منشاء کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا تھا کہ لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ۔یعنی تیری اولاد میں کچھ ظالم لوگ بھی پیدا ہونے والے ہیں جن سے میرا کوئی عہد نہیں ہو گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی احتیاط دیکھو کہ انہوں نے فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا اور جب مکّہ والوں کے لئے دُعا کی تو عرض کیا کہ وَارْزُقْ اَھْلَہٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یعنی اے خدا جو لوگ ان میں سے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لائیں تو اپنے فضل سے انہیں ہر قسم کے پھل عطا فرما گویا لَا یَنَالُ عَھْدِی الظّٰلِمِیْنَ کی آواز سُنتے ہی انہوں نے