تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 457
النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ۰۰۱۲۷ طرف لے جائوں گا اور (یہ) بہت برا انجام ہے۔حَلّ لُغَات۔ثَمَرٰت کالفظ بالعموم نتائج کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح ثمرات تازہ بتازہ پھلوں کو بھی کہتے ہیں۔اَضْطَرُّہٗ : اِضْطَرَّ ہٗ اِلَیْہِ کے معنے ہیں اَحْوَجَہٗ وَاَلْجَا ءَ ہٗ اِلَیْہِ کسی چیز کو گھیر گھار کر اور مجبور کر کے ایک طرف سے دوسری طرف لے جانا۔(اقرب) اس لحاظ سے آیت کے معنے یہ ہیں کہ میں اُن کو گھیر گھار کر جہنم کی طرف لے جائوںگا۔تفسیر۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے بیت اللہ کو مرجع خلائق اور امنِ عالم کا گہوارہ بنایاہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فوراً اللہ تعالیٰ کے حضور جُھک گئے اور انہوں نے دُعا کی رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا۔کہ اے خدا ! توُ نے جو یہ کہا ہے کہ طواف اور رکوع و سجود کرنے والے لوگ یہاں آئیں گے تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہاں آبادی ہو گی۔پس میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تو اس جگہ کو بَلَدًا اٰمِنًا بنا دے۔یہاں کی آبادی خوب بڑھے اور پھولے پھلے۔اور یہ ایک پُرامن شہر ہو۔فتنہ و فساد اور لڑائیوں کی آماجگاہ نہ ہو۔جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دُعا کی تھی۔اُس وقت مکہ کوئی شہر نہیں تھا۔صرف چند جھونپڑیاں تھیں جو ایک بے آب و گیاہ وادی میں نظر آتی تھیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعا یہ کی کہ یہ زمین جو ویران پڑی ہوئی ہے اسے ایک شہر بنادے۔عام طور پر جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ اس کے یہ معنے کیا کرتے ہیں کہ اس شہر کو امن والا بنا دے۔حالانکہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہی منشا ہوتا تو آپ ھٰذَا بَلَدًا کہنے کی بجائے ھٰذَا الْبَلَدَ فرماتے مگر آپ ھٰذَا الْبَلَدَ نہیں کہتے بلکہ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا کہتے ہیں۔پس یہ شہر کے بنانے کی دُعا ہے شہر کو کچھ اور بنانے کی دُعا نہیں وہ فرماتے ہیںرَبِّ اجْعَلْ هٰذَا اے میرے رب بنا دے اس ویران زمین کو بَلَدًا ایک شہر اٰمِنًا مگر شہروں کے ساتھ فتنہ و فساد کا بھی احتمال ہوتا ہے۔جب لوگ مل کر رہتے ہیں تو لڑائیاں بھی ہوتی ہیں جھگڑے بھی ہوتے ہیں۔فسادات بھی ہوتے ہیں اور پھر شہروں کو فتح کرنے کے لئے حکومتیں بھی حملہ کرتی ہیں یا بعض شہر جب بڑے ہو جائیں تو اُن کے رہنے والے اپنا نفوذ بڑھانے کے لئے دوسروں پر حملہ کر دیتے ہیں اور چونکہ یہ سارے خدشات شہروں سے وابستہ ہوتے ہیں اس لئےمیں تجھ سے یہ دُعا کرتا ہوں کہ تو اسے امن والا بنائیو۔نہ کوئی اس پر حملہ کرے اور نہ یہ کسی اور پر حملہ