تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 41

اِس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں فرعون اوپر کی طرف سے ہو کر خشکی کے راستہ نہ گیا اور کیوں اس نے سمندر کی خشک جگہ میں سے ہو کر بنی اسرائیل کا تعاقب کیا؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ سمندر کے اس مقام کے پاس جو غالباً سویز شہر کے پاس تھا ( یہاں سمندر کی چوڑائی صرف ۳؍ ۲ میل ہے۔دیکھو انسائیکلو پیڈیا ببلیکازیر لفظ Exodus)۔بہت سی جھیلیں ہیں اور دلدلیں بھی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی جیسا کہ بائبل سے ثابت ہے۔پہلے اوپر کی طرف گئے تھے مگر آگے جھیلوں کو راستہ میں دیکھ کر اور راستہ بند پا کر واپس سمندر کی طرف لَوٹے۔بائبل میں لکھا۔’’خدا نے انہیں یہ رہبری نہ کی کہ وہ فلسطیون کی راہ سے جاویں اگرچہ وہ نزدیک کی راہ تھی۔کیونکہ خدا نے کہا۔ایسا نہ ہو کہ وہ لڑائی دیکھ کے پچھتاویںاور مصر کو پھر جاویں۔بلکہ خدا نے ان لوگوں کو دریائے قلزم کے بیابان کی طرف پھیرا‘‘۔(خروج باب۱۳ آیت ۱۷،۱۸)اگر فرعون اوپر جاتا تو اسے اَور بھی چکر کاٹ کر جھیلوں کے اوپر سے ہو کر جانا پڑتا اور یقیناً حضرت موسیٰ علیہ السلام اُس وقت تک بہت دور نکل چکے ہوتے۔اور اس کی مملکت سے باہر چلے گئے ہوتے۔اس لئے اس نے ان کے پکڑنے کی ایک ہی صورت ممکن دیکھی کہ وہ سمندر کے خشک شدہ حصہ میں سے ان کا تعاقب کرے۔مگر اﷲتعالیٰ نے اس کی رتھوں کے بیلوں کو ڈرایا اور رتھوں کے راستہ میں مشکلات پیدا کر دیں جس کی وجہ سے اس کے سفر میں دیر ہوتی گئی اور مدّ کا وقت آ گیا۔(حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اِس سفر کے لئے دیکھو خروج باب۱۳ آیت ۱۷ سے آخر تک اور پھر باب۱۴۔اِس بیان میں بہت سی غلطیاں اور مبالغہ ہے مگر اجمالی طور پر اس سفر کا نقشہ اس سے معلوم ہو جاتا ہے)۔جدید مؤرخین میں بنی اسرائیل کے گزرنے کے مقام میں اختلاف جدید مؤرخین میں یہ بحث ہے کہ بنی اسرائیل کے گزرنے کا واقعہ صحیح ہے تو اس کا مقام کون سا ہے؟ بائبل میں چونکہ ایک دریا کا بھی ذکر آتا ہے۔بعض کے نزدیک حضرت موسیٰ علیہ السلام جھیل تمساح کے پاس سے گزرے ہیں۔جس کا پانی ان کے نزدیک گزشتہ زمانہ میں ایک نالہ کے ذریعہ سے سمندر سے ملتا تھا۔(ڈوبائے آمی سِٹیکل اور کنوُبل کی بھی یہی رائے ہے (دیکھو انسائیکلوپیڈیا ببلیکا اکسوڈس Exodus( خروج ) کالم ۱۴۳۸،۱۴۳۹۔اور مقام کے لئے دیکھو اوپر کا نقشہ)۔بعض کے نزدیک وہ بحیرہ قلزم کے پاس سے نہیں گزرے بلکہ زُوآن کے پاس سے ہوتے ہوئے (دیکھو اوپر کا نقشہ) بحیرۂ روم کے پاس سے گزرے ہیں۔(بقول شلائیڈن اور برگش انسا ئیکلو پیڈیا ببلیکا زیر لفظ Exodus) بعض کے نزدیک وہ ان علاقوں میں سے کسی علاقہ میں سے بھی نہیں گزرے بلکہ وہ شمالی افریقی مصر میں رہتے ہی نہ