تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 452
ہم لوگوں کو بتائیں کہ اسلام میں کوئی جبر نہیں۔وہ اپنے اندر امن کی تعلیم رکھتا ہے۔اور دوسروں کو بھی امن دیتا ہے اور اِسی مقصد کیلئے خانہ کعبہ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔غرض فرمایا کہ تم اس وقت کو یاد کرو۔جب ہم نے اس گھر یعنی خانہ کعبہ کو لوگوں کیلئے مثابہ بنایا۔یعنی تمام دنیا کیلئے نسل اور قومیت کے امتیاز کے بغیر اور ملک اور زبان کے امتیاز کے بغیر اس کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں۔اسی طرح مثابہ اس منڈیر کو بھی کہتے ہیں جو کنوئیں کے اردگردبنائی جاتی ہے اور جس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ جب زور کی ہوا چلے تو کوڑا کرکٹ اور گوبر وغیرہ اُڑ کر اند رنہ چلا جائے۔یا کوئی اور گندی چیز کنوئیں کے پانی کو خراب نہ کر دے۔اسی طرح منڈیر سے یہ غرض بھی ہوتی ہے کہ کوئی شخص غلطی سے کنوئیں میں نہ گرجائے۔غرض منڈیر کا مقصد کنوئیں کو برُی چیزوں اور لوگوں کو گرنے سے بچانا ہوتا ہے۔اس نقطہ ٔ نگاہ کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے خانہ کعبہ کو ایک تو اس غرض کے لئے بنایا ہے کہ دنیا کے چاروں طرف سے لوگ اِس جگہ آئیں اور یہاں آکر دینی تربیت اور اعلیٰ اخلاق حاصل کریں۔اور دوسرے ہم نے خانہ کعبہ کو اس لئے بنایا ہے تاکہ وہ دنیا کیلئے منڈیر کا کام دے اور ہر قسم کی برائیوں اور شر سے لوگوں کو محفوظ رکھے۔تیسرے ہم نے اسے امن کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔گویا جس طرح قلعہ اس لئے بنایا جاتا ہے تاکہ فوج وہاں جمع ہو کر اپنے نظام کو مضبوط کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ نے بیت اللہ کو لوگوں کے جمع ہونے کا مقام بنایا ہے۔اور جس طرح قلعہ کی یہ غرض ہوتی ہے کہ ناپسندیدہ عناصر اندر نہ آسکیں اِسی طرح بیت اللہ کو خدا نے منڈیر بنایا ہے تاکہ غیر پسندیدہ عناصر اس سے دُور رہیں۔پھر قلعہ کی تیسری غرض اردگرد کے علاقہ کی حفاظت کر کے امن قائم رکھنا ہوتی ہے۔یہ غرض بھی بیت اللہ میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اَمْنًا کہہ کر اسی امر کی طرف اشارہ کیا ہے۔اور بتا یا ہے کہ اسے قیام امن کیلئے بنایا گیا ہے۔گویا بیت اللہ نظام کے قیام کا مرکز بھی ہے۔غیرپسندیدہ عناصر کو دُور کرنے کا ذریعہ بھی ہے اور دنیا کے امن کے قیام کا سبب بھی ہے۔وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى۔اس آیت میں مِنْ یا تو تاکید کیلئے آیا ہے۔یا تمیز کیلئے اور وَاتَّخِذُوْا سے پہلے قُلْنَا یا اَمَرْ نَا محذوف ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے کہا یا ہم نے حکم دیا کہ تم شدت کے ساتھ مقام ابراہیم کو عبادت گاہ بناؤ۔یا جہاں انہوں نے خانہ کعبہ کو بنانے کیلئے قیام کیا تھا اس میں سے کسی جگہ نماز پڑھو۔یا یہ کہ ابراہیم ؑ کے کھڑے ہونے کی جگہ پر یعنی جہاں وہ عبادت کرتے تھے تم بھی طواف کے بعد اس شکریہ میں کہ خدا نے اس گھر کو دنیا کے جمع کرنے اورامن کو قائم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے نماز پڑھو۔مقام ابراہیم کعبہ کے پاس ایک خاص جگہ ہے۔جہاں طواف بیت اللہ کے بعد مسلمانوں کو دو۲ سنتیں پڑھنے کا