تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 451

اس بات کا ثبوت ہو گا کہ َمیں حق پر ہوں۔وہ فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (حٰمٓ السّجدة:۳۱) یعنی وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر مستقل مزاجی سے اس عقیدہ پر قائم ہو گئے اُن پر ملائکہ یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور نہ کسی پچھلی کوتاہی کا غم کرو اور اس جنّت کے ملنے سے خوش ہو جاؤ۔جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔غرض اسلام اطمینان قلب پیدا کرنے کا مدعی ہے جبکہ اور کوئی مذہب اس کا دعویٰ نہیں کرتا۔اَمْنًا کے دوسرے معنے امن میں آنے والے کے ہیں۔یہ معنے بھی خانہ کعبہ پر چسپاں ہوتے ہیں۔کیونکہ دشمنوں کے بار بار کے منصوبوں کے باوجود یہ مقام خدا تعالیٰ کی مدد سے محفوظ چلا آتا ہے حکومتوں کے بعد حکومتیں بدلیں اور ملکوں کے بعد ملک برباد ہوئے لیکن بیت اللہ دشمنوں کے حملوں سے محفوظ اور مقام امن ہی رہا۔پھردنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس کا معبد ہمیشہ اس کے قبضے میں رہا ہو۔صرف اہل اسلام کا مقدس معبد ہمیشہ سے اس کے قبضہ میں رہا ہے۔یروشلم جو یہودیوں اور مسیحیوں کا متبرک مقام ہے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔ہر دوار اور بنارس جو ہندوؤں کے متبرک مقامات ہیںچھ سات سو سال تک مسلمانوں کے قبضہ میں رہے اور پھر انگریزوں کے قبضہ میں چلے گئے۔اسی طرح گیا جوبدھوؔں کا متبرک مقام ہے پہلے مسلمانوں کے قبضہ میں رہا۔پھر انگریز اس پر قابض ہوئے اور اب ہندوؤں کا اس پر قبضہ ہے یہی حال جینیوں کا ہے۔ان کے معبد کبھی کسی کے قبضہ میں رہے اور کبھی کسی کے قبضہ میں۔مگر خانہ کعبہ صرف مسلمانوں ہی کے ہاتھ میں رہا اور کبھی کوئی غیر حکومت اُسے اپنے قبضہ میں لینے میں کامیاب نہیں ہوئی۔پس یہ ہمیشہ مقام امن ہی رہا۔امن دینے کے لحاظ سے جو خانہ کعبہ کو خصوصیت حاصل ہے اس کی مثال بھی دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔وہاں ہر چیز کو امن حاصل ہے۔یہاں تک کہ جانوروں کو بھی امن حاصل ہے اور ان کا شکار منع ہے بلکہ درختوں کا کاٹنا تک منع ہے۔سوائے اِذخر گھاس کے۔انسانوں کو یہ امن حاصل ہے کہ حدودِ حرم میں لڑائی ممنوع ہے (بخاری کتاب المغازی باب ۵۴ مقام النبی بمکة زمن الفتح)۔اور پھر انسان کو تقویٰ اور روحانیت کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ کی حفاظت حاصل ہوتی ہے۔وہ مزید براں ہے۔مگر تعجب ہے کہ وہی گھرجسے خدا نے امن دینے والا قرار دیا ہے اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ ایسے جہاد کے قائل ہیں جو دنیا میں کسی کو پناہ نہیں دیتا یہ عجیب تماشہ ہے کہ جس مذہب کو امن والا کہا گیا تھا اُسی کو فساد والا قرار دیا جاتا ہے اور اس طرح اضداد کو جمع کر دیا جاتا ہے۔اس کا ازالہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ