تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 453

حکم ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کعبہ کے بعداس جگہ شکرانہ کے طور پر نماز پڑھی تھی اور اس سنّت کو جاری رکھنے کیلئے وہاں دو ۲ رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں۔وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى میں جس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عبادت اور فرمانبرداری کے جس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہوئے تھے تم بھی اسی مقام پر اپنے آپ کو کھڑا کرنے کی کوشش کرو۔لوگ غلطی سے مقام ابراہیم ؑ سے مراد صرف جسمانی مقام سمجھ لیتے ہیں۔حالانکہ ابراہیم ؑ کا اصل مقام وہ مقام اخلاص اورمقام تقویٰ تھا جس پر کھڑے ہو کر انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بھی اسی طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اُسی رنگ میں دین کیلئے قربانیاں بجالاؤجس رنگ میں ابراہیم ؑنے اللہ تعالیٰ سے محبت کی اور جس رنگ میں ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں۔پس یہاں مقام ابراہیم سے مراد کوئی جسمانی مقام نہیں بلکہ روحانی مقام مراد ہے۔ہماری زبان میں بھی کہتے ہیں۔کہ تم نے میرے مقام کو نہیں پہچانا۔اب اگر کوئی شخص یہ الفاظ کہے تو دوسرا شخص یہ نہیں کرتا کہ اُسے دھکّا دے کر پرے پھینک دے اور کہے کہ تم جس مقام پر کھڑے تھے وہ تو میں نے دیکھ لیا ہے۔ہمیشہ ایسے الفاظ سے درجہ کی بلندی مراد ہوتی ہے۔پس وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى کے یہی معنے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے جس اخلاص اور جس محبت اور جس تقویٰ اور جس انابت الی اللہ سے نیکیوں میں حصہ لیاتھا تم بھی اسی مقام پر کھڑے ہو کر اُن نیکیوں میں حصہ لو تاکہ تمہیں بھی ابراہیمی مقام حاصل ہو۔اگر مقام ابرہیم کو مصلّٰی بنانے کے یہی معنے ہوں کہ ہر شخص اُن کے مصلّٰی پر جا کر کھڑ ا ہو۔تو یہ تو قطعی طور پر نا ممکن ہے۔اوّل تو یہ جھگڑا رہتا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں نماز پڑھی تھی یا وہاں۔اور اگر بالفرض یہ یقینی طور پر پتہ لگ بھی جاتا کہ انہوں نے کہاں نماز پڑھی تھی تو بھی ساری دنیا کے مسلمان وہاں نماز نہیں پڑھ سکتے۔صرف حج میں ایک لاکھ سے زیادہ حاجی شامل ہوتے ہیں۔اگر جلدی جلدی بھی نماز پڑھی جائے۔تب بھی ایک شخص کی نماز پر دو منٹ صرف آئینگے اس کے معنے یہ ہوئے کہ ایک گھنٹہ میں تیس اور چوبیس گھنٹہ میں سات سو بیس آدمی وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں۔اب بتاؤ کہ باقی جو ۸۰ ۹۹۲ رہ جائیں گے وہ کیا کرینگے اور باقی مسلم دنیا کےلئے تو کوئی صورت ہی نا ممکن ہو گی۔پس اگر اس حکم کو ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس پر عمل ہو ہی نہیں سکتا۔پھر ایسی صورت میں فسادات کا بھی احتمال رہتا ہے۔بلکہ ایک دفعہ تو محض اسی جھگڑے کی وجہ سے مکّہ میںایک قتل بھی ہو گیا تھا۔پس اس آیت کے یہ معنے نہیں۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے جس مقام اخلاص پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تھی تم بھی اُسی مقام پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔