تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 450

میرے نزدیک اس پیشگوئی کے کامل طور پر پورے ہونے کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہی ہے۔کیونکہ بنو اسحاق اور بنو اسماعیل دونوں کی شاخیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے وجود میں آخر مل گئی ہیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تیرہ سو سال کے بعدیہ پیشگوئی پوری ہو رہی ہے اور یورپ امریکہ افریقہ آسٹریلیا ہندوستان اور دیگر ممالک کے باشندے یعنی چینی جاوی سماٹری ایرانی عیسائی ہندو مغل پٹھان راجپوت غرضیکہ ہر مذہب و ملت کے لوگ اسلام اور احمدیت کو قبول کر رہے ہیں۔اور یہ پیشگوئی سچی ثابت ہو رہی ہے کہ بیت اللہ کو ہم نے متفرق لوگوں کو ایک جگہ پر جمع کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔اَمْنًا : دوسری پیشگوئی یہ فرمائی کہ (۱)یہ مقام امن والاہو گا۔یعنی اسے دوسروں سے ہمیشہ محفوظ رکھا جائے گا۔(۲)یہ مقام لوگوں کو امن دینے والا ہو گا۔اور چونکہ حقیقی امن اطمینان قلب سے حاصل ہوتا ہے اس لئے اَمْنًاکے تیسرے معنے یہ بھی ہیں کہ اطمینان قلب بخشنے والا۔اطمینان قلب کے لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اسلام سے باہر انسان کو اطمینان قلب کہیں حاصل نہیں ہو سکتا۔اس کی موٹی مثال یہ ہے کہ اسلام دلیل سے اپنی بات منواتا ہے جبکہ دوسرے مذاہب دلیل کی بجائے جبراور تحکّم سے کام لیتے ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ جو شخص بغیر دلیل کے کوئی بات مانتا ہے اس کے ایمان کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ اعلان کرواتا ہے کہ عَلٰی بَصِیْرَ ۃٍ اَ نَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ (یوسف : ۱۰۹) یعنی میں جس تعلیم کو پیش کرتا ہوں۔اُسے دلائل سے مانتا ہوں اور میرے متبعین بھی اسے دلائل سے مانتے ہیں۔پس میرا تمہارا کوئی جوڑ نہیں۔تم کہتے ہو کہ فلاں بات مان لو ورنہ جہنم میں جاؤ گے لیکن میں جو کہتا ہوں اس کے ساتھ اس کی معقولیت کی دلیل بھی دیتا ہوں کیونکہ اس کے بغیر اطمینان قلب حاصل نہیں ہو سکتا۔پھر اطمینان قلب کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ مشاہدہ یعنی اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو جانا ہے۔اگر یہ بات کسی انسان کو حاصل ہو جائے تو اُسے کوئی چیز پریشان نہیں کر سکتی۔اسلام خانہ کعبہ سے تعلق رکھنے والوں کو اس کی بھی خوشخبری دیتا ہے اور فرماتا ہے۔يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً۔فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۔وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔( الفجر:۲۸تا۳۱) یعنی اے نفسِ مطمئنہ ! اپنے رب کی طرف اس حالت میں َلوٹ کہ تو اس سے خوش ہے اور وہ تجھ سے خوش۔پس آ اور میرے بندوں میں داخل ہو جا۔آاور میری جنّت میں داخل ہو جا۔یوں تو سب مذاہب کے پیرو کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب کے مطابق عمل کرو تو تم جنّت میں چلے جاؤگے۔مگر اسلام یہ نہیں کہتا کہ تمہیں صرف مرنے کے بعد جنّت ملے گی بلکہ وہ کہتا ہے کہ میں اسی دنیا میں تمہیں خدا دکھادیتا ہوں جو