تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 40
جہاں سے حضرت موسیٰ مع ساتھیوں کے گزرے تھے وہ سمندر یا اس کا کوئی بڑھا ہوا حصہ تھا اِس لئے وہ جگہ جہاں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم گزری تھی بہر حال سمندر یا اس کا کوئی بڑھا ہوا حصہ تھا۔پس یہ معنی کہ ایک بہتا ہوا دریا عصائے موسیٰ کی ضرب سے رک گیا تھا اور اس کے ایک طرف کا پانی ایک طرف یخ ہو کر رہ گیا تھا اور دوسری طرف کا پانی دوسری طرف یخ ہو کر رہ گیا تھا اور اس میں سونٹا مار کر سوراخ کر دیا گیا تھا۔یہ سب لغو قصے ہیں۔قرآن کریم ان کی تصدیق نہیں کرتا۔قرآن کریم بَحر اور یَمّ کا لفظ بولتا ہے جو گو دریا کے لئے بھی بول لیا جاتا ہے۔لیکن اس کا استعمال سمندر یانمکین پانی کی جھیل کے لئے زیادہ تر ہوتا ہے اور بنی اسرائیل کے رہنے کے مقام اور کنعان کے درمیان سمندر یا اس کے ٹکڑے ہی آتے ہیں۔بہنے والا دریا کوئی نہیں آتا۔پس جس جگہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام گزرے تھے وہ سمندر یا اس کا کوئی بڑھا ہوا ٹکڑا تھا۔حضرت موسیٰ ؑایسے وقت میں سمندر سے گزرے جبکہ جزر کا وقت تھا مَیں اوپر بتا آیا ہوں کہ سمندر میں مدّو جزر پیدا ہوتا رہتا ہے اور ایک وقت میں پانی کنارے پر سے بہت دور پیچھے ہٹ جاتا ہے۔اور دوسرے وقتوں میں وہ خشکی پر اور آگے آ جاتا ہے۔سمندر پھاڑنے کے واقعہ کا اِسی مدّ و جزر کی کیفیت سے تعلق ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام ایسے وقت میں سمندر سے گزرے جبکہ جزر کا وقت تھا اور سمندر پیچھے ہٹا ہوا تھا۔اس کے بعد فرعون پہنچا۔وہ بوجہ اس کے کہ کم سے کم ایک دن بعد حضرت موسیٰ ؑ کے چلا تھا وہ مارا مارکرتا ہوا جس وقت سمندر پرپہنچا ہے اُس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے اس خشک ٹکڑے کا جس سے وہ گزر رہے تھے۔اکثر حصہ طے کر چکے تھے۔فرعون کی غرقابی کی وقت سمندر کی مدّ کی حالت تھی فرعون نے ان کو پار ہوتے دیکھ کر جلدی سے اس میں اپنی رتھیںڈال دیں۔مگر سمندر کی ریت جو گیلی تھی اس کی رتھوں کے لئے مہلک ثابت ہوئی اور اس کی رتھیں اس میں پھنسنے لگیں اور اس قدر دیر ہو گئی کہ مدّ کا وقت آ گیا اور پانی بڑھنے لگا۔اب اس کے لئے دونو ں باتیں مشکل تھیں۔نہ وہ آگے بڑھ سکتا تھا نہ پیچھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر نے اسے درمیان میں آ لیا۔اور وہ اور اس کے بہت سے ساتھی سمندر میں غرق ہو گئے۔اور چونکہ مدّ کا وقت تھا سمندر کا پانی جو کنارے کی طرف بڑھ رہا تھا اس نے ان کی لاشوں کو خشکی کی طرف لا پھینکا۔اس سوال کا جواب کہ فرعون نے بنی اسرائیل کا تعاقب خشکی کے راستہ سے ہو کر کیوں نہ کیا؟ اِس امر کا جواب کہ اگر صرف مدّ و جزر سے فائدہ اٹھا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام وہاں سے گزرے تھے تو اس میں معجزہ کیا ہوا اوپر گزر چکا ہے۔