تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 407
دوسری شکل میں یہ سب باتیں دنیا میں رائج ہیں اور گو علوم کی ترقی نے عبادت خانوں کو گرادینا یا ان کو بند کر دینا بڑی حد تک دُور کر دیا ہے لیکن اپنی عبادت گاہوں میں دوسرے مذاہب کے پیرؤوں کو عبادت کرنے کی اجازت نہ دینا تو اس زمانہ میں بھی ایک عام بات ہے۔ایک مسیحی گرجا میں ایک مسلمان کواور ایک یہودی گرجا میں ایک مسیحی کو اور ایک مندر میں ایک مسیحی کو اور ایک پارسی صومعہ میںایک ہندو کو اپنی عبادت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاتی اور اگر کوئی ایسا کرے تو یورپ کے علوم وفنون سے آگاہ ممالک سے لے کر افریقہ کے نیم وحشی قبائل تک کے لوگ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔بلکہ بعض تو اپنے عبادت خانوں میں دوسروں کو داخل ہونے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔قرآن کریم اس ظالمانہ کارروائی سے روکتا ہے اور بتاتا ہے کہ گو خیالات متفرق ہیں لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اُس کو اُس شہنشاہِ حقیقی کے نام لینے اور اُس کی عبادت کرنے سے روکنا یا مساجد میں کسی کو نہ آنے دینا اور اِ س طرح اُن کو ویران کرنے کی کوشش کرنا کسی طرح جائز نہیں ہو سکتا بلکہ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ہر ایک مذہب کے پیرؤ وں کو خواہ وہ مفتوح ہوں یا فاتح مساجد کے استعمال کی کامل آزادی ہونی چاہیے۔اور اگر ایک مذہب کے عبادت خانہ میں کسی دوسرے مذہب کا کوئی انسان اپنے طریق پر خدا تعالیٰ کا نام لینا چاہے اور اُس کی عبادت کرنا چاہے تو اس کو روکنا نہیں چاہیے۔کیونکہ مساجد ایک ایسا مقام ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتے ہیں۔پس اِن کے بارے میں انسان کو ڈر کر کام کرنا چاہیے اور آپس کے اختلافات کو اُن تک وسیع نہیں کرنا چاہیے ورنہ جو لوگ اس بات کی پرواہ نہیں کریں گےاور اس عمل میں غلوّ سے کام لیں گے اِس دنیا میں بھی ان کو عذاب دیا جائے گا اور آخرت میں بھی وہ سزا سے بچ نہیں سکتے۔یہ وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم نے مختلف مذاہب کے معبدوں کے احترام اور اُن کی عبادت کے متعلق دی ہے۔کسی اور مذہب کی تعلیم کو اس سے ملا کر دیکھو اور مقابلہ کرو کہ وہ کونسی تعلیم ہے جو ایک طرف تو عقل اور فہم کے مطابق ہے اور دوسری طرف دنیا میں امن قائم کرنے والی ہے۔اس تعلیم کے ہوتے ہوئے اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ ایک متعصب مذہب ہے۔مگر یہ اعتراض تبھی قابلِ قبول ہو سکتا ہے جب اس سے بڑھ کر عمدہ اور لطیف تعلیم دنیا میں کسی اور مذہب کی طرف سے پیش کی جائے۔ورنہ زبانی اعتراض تو ہر مذہب کے لوگ دوسروں پر کر سکتے ہیں۔دعویٰ بِلا دلیل بجائے نفع دینے کے عقلمندوں کی نظر میں انسان کو ذلیل کر دیتا ہے۔ہم دعویٰ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ وسعتِ حوصلہ جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔اس کا مقابلہ دنیا کا کوئی مذہب نہیں کر سکتا۔چنانچہ سب سے پہلا انسان جس نے اِس پر عمل کیا وہ ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے نجران کے مسیحیوں کو اپنی مسجد میں گرجا کرنے کی اجازت دے دی۔زادالمعاد میں لکھا ہے۔لَمَّا قَدِ مَ