تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 408
وَفْدُ نَجْرَانَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلُوْاعَلَیْہِ مَسْجِدَہٗ بَعْدَ صَلٰوۃِ الْعَصْرِ فَحَانَتْ صَلَاتُھُمْ فَقَامُوْاأَ یُصَلُّوْنَ فِیْ مَسْجِدِہٖ فَاَرَادَ النَّاسُ مَنْعَھُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ’’ دَعُوْھُمْ‘‘ فَاسْتَقْبَلُوا الْمَشْرِقَ فَصَلُّوْا صَلَاتَـھُمْ (زادالمعاد،فصل فی قدوم وفد نجران علیہ صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس نجران کا عیسائی وفد آیا۔تو وہ لوگ عصر کے بعد مسجد نبویؐ میں آئے اور گفتگو کرتے رہے۔گفتگوکرتے کرتے اُن کی عبادت کا وقت آگیا(غالباً وہ اتوار کا دن ہو گا) چنانچہ وہ وہیں مسجدمیں اپنے طریق کے مطابق عبادت کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔لوگوں نے چاہا کہ وہ انہیں روک دیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ ایسا مت کرو‘‘۔چنانچہ انہوں نے اُسی جگہ مشرق کی طرف منہ کیا اور اپنے طریق کے مطابق عبادت کر لی۔پس مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکنے کا کسی کو حق نہیں۔اگر تمام اقوام اس بات پر عمل کرنے لگ جائیں تو تمام باہمی جھگڑے ختم ہو جائیں۔اگر ہر قوم اپنے معبد میں دوسروں کو آنے اور وہاں عبادت اور ذکر الہٰی کرنے کی اجازت دے دے تو کبھی آپس میں مناقشت اور جھگڑا پیدا نہ ہو اور دنیا میں ہر طرف امن قائم ہو جائے۔مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال پر غور کریں اور سوچیں کہ کیا وہ اس تعلیم پر پوری طرح عمل کرتے ہیں جو قرآن کریم دیتا ہے۔اور جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا یا اس کے خلاف اپنے خود ساختہ اصول پر عمل کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت غیر احمدیوں اور ہم میں ایک فیصلہ کن آیت ہے۔قرآن کریم میں مَنْ اَظْلَمُ کے الفاظ تین قسم کے لوگوں کے لئے آئے ہیں۔اول جھوٹے مدعیان نبوت کے لئے۔دومؔ سچے نبی کو جھوٹا کہنے والے کے لئے۔جیسا کہ آتا ہے۔فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ (یونس :۱۸) کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترا کرتا ہے یا سچے نبی کے الہام کو جھٹلاتا ہے اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے۔سوم۔مساجد میں عبادت الہٰی سے روکنے والوں کے متعلق جیسا کہ اس جگہ ہے اَب سوال یہ ہے کہ آیا بانیء سلسلہ احمدیہ نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا ہے یا غیر احمدی ایک سچے نبی کے منکر ہیں ؟ بہرحال دونوں میں سے ایک مَنْ اَظْلَمُ میں ضرور شامل ہے۔اِس سوال کو یہ تیسری آیت بالکل حل کر دیتی ہے کیونکہ جہاں جماعت احمدیہ میں ایسی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی کہ اس نے اپنی مساجد میں کسی کو عبادت کرنے سے روکا ہو وہاں مسلمانوں میں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کے افراد کو اپنی مسجدوں میں نمازیں پڑھنے سے روکا اور اُن پر سختیاں کیں۔پس اس آیت نے ثابت کر دیا کہ بانیء سلسلہ احمدیہ کے مخالفین اپنے عمل