تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 406
وَّ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۰۰۱۱۵ میں (بھی) ان کے لئے بڑا عذاب (مقدر) ہے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص مساجد میں اللہ تعالیٰ کا نام نہ لینے دے اور اُس کی عبادت سے لوگوں کو رو کے اور اس طرح اُن کو ویران کرنے کی کوشش کرے وہ سب سے زیادہ ظالم ہے۔یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو اسلام نے پیش کی ہے۔اِسے سامنے رکھ لو دنیا کا کوئی مذہب اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا۔مسلمانوں کا عمل جانے دو بلکہ اس حکم اور تعلیم کو دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی کا حق نہیں کہ ذکر الہٰی سے کسی کو روکے۔اگر کوئی شخص مسجد میں جا کر ذکر الٰہی کرنا چاہے یا اپنے رنگ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانا چاہے تو اس سے روکنا بالکل ناجائز ہے۔کوئی ہندو، سکھ یا عیسائی آجائے اور مسلمانوں کی مسجد میں اپنے رنگ میں عبادت الٰہی کرنا چاہے تو کسی مسلمان کو اُسے روکنے کا حق نہیں۔اگر کوئی کہے کہ باجابجانا اور ناچنا اُن کی عبادت میں شامل ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ کام وہ باہر کر لیں۔جتنا حصہ ذکر الہٰی کا ہے وہ مسجد میں آکر ادا کرلیں۔اِس آیت میں ان تمام قسم کی زیادتیوں اور تعدّیوں کو جو ایک مذہب کے پیرو دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں یا عبادات کے متعلق کرتے ہیں یک قلم موقوف کر دیا ہے اور سب مذاہب کے پیرؤوں کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ عبادت خانوں اور عبادتوں کے متعلق اپنے دلوں اور اپنے حوصلوں کو وسیع کریں کیونکہ اُن کا موجودہ طریق عمل نہایت ظالمانہ اور جابرانہ ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا۔وہ ظالمانہ طریق جو عبادت خانوں یا عبادات کے متعلق زمانہ نزولِ قرآن کے وقت برتے جاتے تھے یا اب بھی برتے جاتے ہیں اور جن سے قرآن کریم منع فرماتا ہے یہ ہیں:۔اوّل۔اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر فتح پا تا تو اُس کے عبادت خانوں کو گِرا دیتا یا انہیں مقفّل کر دیتا یا اس مذہب کے پیرؤوں کو اُس میں عبادت نہ کرنے دیتا۔دوم۔ہر مذہب کے پیرو اپنی اپنی عبادت گاہوں میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو عبادت کرنے سے روکتے اور ان میں دوسروں کو داخل ہونے تک کی بھی اجازت نہ دیتے۔یہ باتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وقت میں بڑے زور سے رائج تھیں اور مختلف مذاہب کے پیرؤوں کی عادت میں داخل ہو گئی تھیںاور اُس زمانہ میں یہ باتیں عیب نہیں بلکہ حق اور ضروری سمجھی جاتی تھیں اور تاریخ عالم بتاتی ہے کہ یہ اس زمانہ کی ایجاد نہ تھی بلکہ ہمیشہ سے دنیا انہی اُمور کی خوگر چلی آتی تھی۔اِس لئے کسی انسان کی طبیعت اِن سے گھبراتی نہ تھی بلکہ اس زمانہ میں بھی ایک یا