تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 403

نصاریٰ میں کوئی خوبی نہیں پائی جاتی اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ یہوداپنے اندر کوئی نیکی اور روحانیت نہیں رکھتے۔حالانکہ دونوں ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں۔یہ بھی کہتے ہیں کہ بائیبل پر ہمارا ایمان ہے اور وہ بھی کہتے ہیں کہ بائیبل پر ہمارا ایمان ہے۔صرف انجیل کے متعلق ان دونوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔یعنی یہود تو اسے کوئی مقدس کتاب تسلیم نہیں کرتے اور عیسائی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔لیکن بائیبل جس میں تمام عہد نامہ قدیم شامل ہے اس پر یہود اور عیسائی دونوں ایمان رکھتے ہیں اور دونوں کہتے ہیں کہ اس میں کئی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔مگر ایک کتاب پر ایمان رکھنے کے باوجود ان میں اس قدر اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہودی عیسائیوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان میں کوئی خوبی نہیں اور عیسائی یہودیوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان میں کوئی خوبی نہیں۔اِس سے پہلے یہود کے تین دعووںکا ذکر آچکا ہے۔اب ان کے متعلق یہ چوتھی بات بیان کی گئی ہے درحقیقت پہلی دو باتیں آپس میں مشابہ تھیں اور آخری دو باتیں آپس میں مشابہ ہیں۔پہلے کہا تھا کہ یہود کا یہ دعویٰ ہے کہ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً ہمیں آگ صرف چند دن چھو ئے گی اور گیارھویں رکوع میں اُن کا یہ دعویٰ بیان کیا گیا تھا کہ اگلا جہان صرف ہمارے لئے مخصوص ہے۔گویا پہلے دعویٰ سے دوسرا دعویٰ بڑھ گیا۔پہلا دعویٰ یہ تھا کہ اگرہم دوزخ میں جائیں گے تو صرف چند دن ہی اُس میں رہیں گے۔اور دوسرا دعویٰ یہ تھا کہ جنت میں ہمارے سوا اور کوئی جا ہی نہیں سکتا۔یہ پہلے دعویٰ سے بڑھ کر دعویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان دونوں دعووں کا ردّ کر دیا۔اب تیسرا اور چوتھا دعویٰ آپس میں مشابہ ہیں۔مگر چوتھا تیسرے سے بڑھ کر ہے۔تیسرا دعویٰ یہ تھا کہ لَنْ یَّدْ خُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی کہ یہود کے نزدیک یہودیوں کے سوا اور کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا اور عیسائیوں کے نزدیک عیسائیوں کے سوا کوئی اور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔اور چوتھا دعویٰ یہ ہے جو اس سے بھی بڑا ہے کہ دوسروں کے جنت میں جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔یہود کے نزدیک عیسائیوں میں کوئی نیکی نہیں اور عیسائیوں کے نزدیک یہود میں کوئی خوبی نہیں۔یوں دوزخ میں جانے والوں میں بھی بعض نیکیاں ہو سکتی ہیں کیونکہ آخر ایک یا دو نیکیوں سے انسان جنت میں نہیں جا سکتا۔جنت میں انسان اسی صورت میں داخل ہوتا ہے جب نیکیاں زیادہ ہوں اور بدیاں کم ہوں۔مگر یہ لوگ ایک دوسرے کو دوزخی قرار دینے میں اتنا غلو کرتے ہیں کہ کہتے ہیں ہمارے سوا دوسروں میں کوئی نیکی پائی ہی نہیں جاتی۔گویا قطعی طور پر وہ کسی نیکی کو دوسرے کی طرف منسوب کرنے کے لئے تیارہی نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باقی نیکیوں کو تم جانے دو۔تم یہ بتائو کہ عہدِ عتیق کا پڑھنا نیکی ہے یا نہیں ؟ وہ کم از کم اسے تو پڑھتے ہیں اور جب وہ یہ نیکی کا کام کرتے ہیں تو پھر کلّی طور پر کسی کی نیکی کا کیوں انکار کرتے ہو۔