تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 404
حقیقت یہ ہے کہ ہر مذہب اپنے اندر بعض صداقتیں رکھتا ہے اور سچے مذہب کے صرف یہی معنے ہوتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نسبت اپنے اندر بہت زیادہ خوبیاں اور کمالات رکھتا ہے اور ہر قسم کے نقائص سے منزہ اور پاک ہوتا ہے۔ورنہ تھوڑی بہت صداقت تو ہر مذہب میں پائی جاتی ہے۔لیکن افسوس ہے کہ عام طور پر اس اصل کو نہیں سمجھا جاتا۔جس کا نتیجہ شدید مذہبی عداوت کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔اسلام اس کم حوصلگی بلکہ غلط بیانی کا شدید مخالف ہے۔اور اپنی صداقت کے دعویٰ کے ساتھ اس بات کا بھی اعتراف کرتاہے کہ ہر مذہب اپنے اندر بعض خوبیاں رکھتا ہے اور مختلف مذاہب کے پیرؤوں کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر اندھا دھند حملہ نہ کیا کریں۔بلکہ دوسروں کی خوبیوں کو بھی دیکھا کریں۔اور بلا غور وتحقیق مذہبی تعصب کی بنا پر یہ خیال نہ کر لیا کریں کہ دوسرا مذہب سر سے پاتک عیوب کا مجسمہ ہے اور ہر قسم کی خوبی اس میں مفقود ہے۔چنانچہ آیت مذکورہ بالا میں یہودیوں اور مسیحیوں کو ملامت کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اس قدر سخت عداوت رکھتے ہیں کہ دوسروں کی کسی خوبی کے قائل ہی نہیں بلکہ تعصب مذہبی سے اندھے ہو کر فریق مخالف کو سراسر غلطی پر خیال کرتے ہیں۔حالانکہ اگر اور کچھ نہ ہو تو کم از کم دونوں ایک ہی کتاب کے پڑھنے والے ہیں۔پس اس ایک خوبی میں تو دونوںمشترک ہیں۔اگر قرآن کریم کی اس تعلیم پر لوگ عمل کریں تو دُنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔اور ہر قسم کے جھگڑے اور مناقشات دُور ہو کر صحیح معنوں میں امن قائم ہو سکتا ہے۔کیونکہ تمام مذہبی جھگڑوں کی بنیاد اِسی غلط فہمی پر ہے۔لوگ مخالف مذہب پر غور کرنے سے پہلے اُس کی تردید شروع کر دیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پیرؤوں کے دل میں بھی اس حملہ آور کے مذہب کی نسبت بُغض پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرح ٹھنڈے دل سے مختلف مذاہب پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔اور بِلا غور کئے تمام مذاہب کے پیرو صرف دشمنوں کی روایات کی بنا پر دوسرے مذاہب کے عقائد کو بعیداز عقل اور مجموعۂ توہمات اور اُس کے احکام کو ناقابلِ عمل اور دنیا کے امن کے منافی خیال کر لیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں اُن مذاہب سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔لیکن اگرہمدردانہ غور ہو تو ہر ایک مذہب میں بہت کچھ خوبیاں اور کسی قدر کمزوریاں نظر آئیںگی سوائے اس ایک سچے مذہب کے جو سب نقصوں سے پاک ہوتاہے۔پس اس غور کا لازمی نتیجہ باہمی صلح اور آشتی ہوگا۔ایک دوسرے کے مذہب پر ناجائز حملہ کرنے کی عادت لوگوں کو اس قدر پڑ گئی ہے کہ اس زمانہ میں وہ ایک شغل خیال کیا جاتا ہے حالانکہ اِس کے نتائج بحیثیت مجموعی تمام دنیا کے لئے خطرناک ہیں اور قرآن کریم نے اصولی طور پر اس آیت میں اسی نقص کے ازالہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں اسلامی فرقوں کا بھی یہی حال ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ایک خدا پرایمان رکھتے ہیں۔ایک کتاب پر ایمان رکھتے