تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 402
کلام نازل ہوتا تھا اس کے اثر اور اشاعت کو کوئی قوم روک سکی تھی جواب یہ روک لیں گے۔آیت۱۰۸ میں بتایا کہ یہ کلام زمین و آسمان کے بادشاہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کی مخالفت کا نتیجہ خطرناک ہوگا۔آیت۱۰۹و۱۱۰ میں یہود کی تیسری تدبیر کا ذکر ہے جو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف کیا کرتے تھے۔اور وہ یہ کہ نہایت لغو اور بیہودہ سوالات کرتے تاکہ مسلمان بھی اُن کی دیکھادیکھی اِس مرض میں مبتلا ہو جائیں اور آہستہ آہستہ دین الہٰی کی عظمت اُن کے دلوں سے مٹ جائے۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ دیکھو یہ لوگ حضرت موسیٰ ؑ سے ایسے سوالات کر کے ہلاک ہو چکے ہیں اور اب تمہیں غافل اور گستاخ اور کافر بنانا چاہتے ہیں۔آیت۱۱۱ میں اُن کے شر سے بچنے کی تدبیر بتائی کہ عبادت میں لگ جائو اور مخلوق کی ہمدردی کرو۔آیت ۱۱۲ میںمسیحیوں کا بھی ذکر کر دیا(جو موسوی مذہب کی ایک شاخ تھے مگر یہودیوں سے بالکل الگ ہو چکے تھے) اور فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک نیا عہد باندھا ہے اور اُن کی کتابوں میں اس کی خبر ہے تو اب اس سے منہ موڑ کر صرف یہودی یا عیسائی کہلانے سے کیونکر نجات ہو سکتی ہے۔آیت۱۱۳ میں اُن کے خیالات کو ردّ فرما کر نجات کا حقیقی ذریعہ بتایا جو خدا تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری اور اس کی مخلوق پر شفقت سے کام لینا ہے۔وَ قَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَيْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ اور یہودی کہتے ہیں کہ مسیحی کسی (سچی) بات پر قائم نہیں ہیں۔اور مسیحی کہتے ہیں النَّصٰرٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰى شَيْءٍ١ۙ وَّ هُمْ يَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ کہ یہود کسی (سچی) بات پر قائم نہیںہیں۔حالانکہ وہ دونوں (ایک ہی ) کتاب(یعنی تورات) پڑھتے ہیں۔كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ اسی طرح وہ (دوسرے) لوگ جو علم نہیںرکھتے انہی کی سی بات کہا کرتے تھے۔بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۱۱۴ سو جس (بات) میں یہ اختلاف کرتے ہیں اس کے متعلق اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔تفسیر۔فرمایا یہ لوگ تمہیں تو غیر ناجی قرار دیتے ہیں لیکن خود ان کی یہ حالت ہے کہ یہود کہتے ہیں کہ