تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 399
کہ یا رسول اللہ احسان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا۔اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَ نَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (بخاری کتاب الایمان باب سوال الجبریل النبی عن الایمان۔۔۔۔) کہ ُتو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسی طرز پر کرے کہ وہ تجھے نظر آجائے یا کم از کم تجھے یہ احساس پیدا ہو جائے کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔درحقیقت یہ ایک معیار ہے انسان کی روحانی ترقی پہچاننے کے لئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بتایا ہے کہ عبادتِ الہٰی اتنی کامل ہو جائے کہ خدا تعالیٰ نظر آنے لگے۔یا اُس پر اتنی ہیبت طاری ہو جائے کہ وہ یہ سمجھے کہ میں خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوں۔خدا کو نظر کے سامنے رکھنے سے انسان کا دل بڑھ جاتا ہے جس طرح بھاگتی فوج بادشاہ کے آنے سے کھڑی ہو جاتی ہے۔لیکن اگر اِن دونوں باتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو پھر وہ محسن نہیں رہتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کی رُو سے مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ کے یہ معنے ہیں(۱) کہ جو اپنی توجہ کو خدا کے سپرد کر دے اور وہ پورے طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کا بھی مطیع ہو۔دوسری روایت کی رُو سے یہ معنے ہیں(۲) کہ جو اپنی توجہ کو پورے طور پر خدا تعالیٰ کے سپرد کردے اور رُوحانی طور پر اتنا کامل ہو جائے کہ اُسے خدا تعالیٰ نظر آنے لگ جائے یا خدا کے حکم کے مطابق اس کا عمل ہو جائے۔گویا ایک طرف خدا تعالیٰ کے منشا کے مطابق اس کا عمل ہو اور دوسری طرف اس کا علم کامل ہو اور اس کا عمل عرفان کے درجہ تک پہنچ جائے۔لُغت کی رو سے اس کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص اپنی نظر خدا تعالیٰ کی طرف رکھے۔کسی انسان سے اُس کی اُمید وابستہ نہ ہو۔اس کی امید گاہ وہی ہو۔اور دوسری طرف و ہ محسن بھی ہو یعنی اس کا عمل اتنا وسیع ہو کہ کوئی شخص اُس کے حسنِ سلوک سے باہر نہ رہے گویا اُس کا احسان ساری دنیا سے وابستہ ہو۔تفسیر۔یہ آیت وَقَالُوْالَنْ یَّدْ خُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی کے جواب میں نازل کی گئی ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اسلام کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق درست رکھنا اور خدا تعالیٰ کی مخلوق سے محبت کرنا۔پس نجات کا مستحق صرف وہی شخص ہے جو ایک طرف تو اپنے آپ کو کلیۃً اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر ڈال دے اور جو کچھ مانگنا ہو اُس سے مانگے۔اور دوسری طرف اُس کا دامن اتنا وسیع ہو کہ آپ دوسروں سے لینے کے لئے تیار نہ ہو بلکہ ہر ایک کو دینے کے لئے آمادہ رہے۔اسی مضمون کا ایک شعر میںنے بھی کہا ہے کہ ؎ تو سب دنیا کو دے لیکن خود تیرے ہاتھ میں بھیک نہ ہو یہ محسن کا کمال ہے کہ وہ اپنے لئے خدا تعالیٰ سے مانگتا ہے اور پھر سب دنیا کو دیتا ہے۔اور درحقیقت انابت الی اللہ۔توجہ الی اللہ اور شفقت علی الناس ہی اسلامی تعلیم کا خلاصہ ہے۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ