تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 400
حضرت مرزا صاحب ؑ نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ دو۲ باتیں اسلام کا خلاصہ ہیں اس کا ثبوت کیا ہے؟ سو وہ خلاصہ اسی آیت میں درج ہے مَنْ اَسْلَمَ میں انابت الی اللہ آجاتی ہے اور وَھُوَ مُحْسِنٌ میں لوگوں پر شفقت آجاتی ہے اور بَلٰی کہہ کر بتا دیا کہ نجات صرف انہی لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے نہ کہ تمہارے ساتھ۔ایسے لوگوں کے لئے اُن کے ربّ کے پاس اُن کا اجر محفوظ رہے گا۔اِس میں ایک لطیف بات بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا نجات ہمارے ساتھ مخصوص ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نجات کا گُر تو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دینا ہے نہ کہ کوئی خاص مذہب اختیار کرنا پس محض نام نجات نہیں دلاسکتا بلکہ جب بھی خدا تعالیٰ کا کوئی نیا حکم آئے تو اُسے قبول کرنا ہی حقیقی اسلام ہے اور اُس کا انکار کرنا نجات کے مخالف۔باقی رہا یہ کہ اِن کے علاوہ کوئی ناجی ہے یا نہیں؟ سو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام قانون کے طور پر صرف اُنہی لوگوں کو نجات کا مستحق بتاتا ہے جو اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ کے ماتحت آتے ہوں۔باقی خدا تعالیٰ مالک ہے جسے چاہے بخش دے۔اگر وہ کسی ہندو کو بخشنا چاہے یا کسی سکھ کو بخشنا چاہے یا کسی عیسائی اور یہودی کو بخشنا چاہے تو اُسے کون روک سکتا ہے۔بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر سچے مومن کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے سارے وجود کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے۔اور اپنی دنیوی حاجات کو بھی دینی حاجات کے تابع کر دے۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً اسلام اور دیگر ادیان میں یہی فرق ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم علم حاصل نہ کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ تم تجارتیں نہ کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ صنعت و حرفت نہ کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنی حکومت کی مضبوطی کی کوشش نہ کرو۔وہ صرف انسان کے نقطۂ نگاہ کو بدلتا ہے۔دنیا میںتمام کاموں کے دو نقطۂ نگاہ ہوتے ہیں۔ایک قشر سے مغز حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے اور ایک مغز سے قشر حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے جو شخص قشر سے مغز حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے بلکہ اکثر وہ ناکام رہتا ہے۔لیکن جو شخص مغز حاصل کرتا ہے۔اس کو ساتھ ہی قشر بھی مل جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے اتباع کی تمام جدو جہد دین کے لئے تھی لیکن یہ نہیں کہ وہ دنیوی نعمتوں سے محروم ہو گئے ہوں۔جن لوگوں کو دین ملے گا دنیا لونڈی کی طرح اُن کے پیچھے دوڑتی آئے گی لیکن دنیا کے ساتھ دین کا ملنا ضروری نہیں۔بسا اوقات وہ نہیں ملتا اور بسا اوقات رہا سہا دین بھی ہاتھوں سے جاتا رہتا ہے۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۔خوف آئندہ آنے والی باتوں کے لئے ہوتا ہے اور حُزن ماضی پر۔اللہ تعالیٰ