تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 398
جانتا ہے۔مثلاً وہ روٹی پکا سکتا ہے۔زراعت کا علم رکھتا ہے اور اُسے کر سکتا ہے یا لوہار کا کام بھی جانتا ہے اور اس سے کام چلا سکتا ہے مگر وہ کہلاتا نجّارہے اس لئے کہ سب سے زیادہ اُسے نجّاری کا کام آتا ہے۔اِسی طرح کاتب کئی اور کام بھی جانتااور کر سکتا ہے مگر کاتب کہلاتا ہے۔اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ کتابت جانتا ہے اور یہ اُس کا پیشہ ہے۔اِسی طرح ڈاکٹر باوجود کئی اور کام جاننے کے صرف ڈاکٹر کہلاتا ہے۔اس لئے کہ وہ ڈاکٹری کا کام سب سے زیادہ جانتا ہے۔پس محسن وہ ہے جو کامل علم رکھنے والا یا کامل عمل کرنے والا ہو۔اِسی طرح اَحْسَنَ الشَّیْ ءَ کے معنے ہیں جَعَلَہٗ حَسَنَۃً اُسے اچھا بنایا۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے الَّذِیْ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ (السَّجدة :۸)کہ جس نے ہر چیز پیدا کی اور کام کے لحاظ سے اُسے بہتر سے بہتر طاقتیں بخشیں۔احسان، انعام سے مختلف چیز ہے۔انعام صرف دوسرے پر ہوتا ہے اور احسان اپنے نفس پر بھی ہوتا ہے اور دوسروں پر بھی پس تمام بنی نوع انسان سے نیک سلوک کرنا احسان ہے۔عدل کے لحاظ سے بھی احسان مقام بلند ہے۔عدل تو یہ ہے کہ جتنا کسی کا حق ہو اُتنا ہی انسان اُسے دے دے اِس سے زیادہ نہ دے مگر احسان یہ ہے کہ جو کسی کا حق ہو اس کو اصل سے زیادہ ادا کیا جائے۔اور جو لینا ہو وہ حق سے کم لیا جائے۔(مفردات راغب) اقرب میں اس سے زیادہ مختصر معنے یہ لکھے ہیں کہ اَتٰی بِالْحَسَنِ۔اچھی بات کہی یا اچھی بات جانی۔یا اچھا کام کیا۔یہ اَسَاءَ کی ضد ہے۔یعنی بدسلوکی کے مخالف معنے دیتا ہے۔پس اس کے معنے بھی حسنِ سلوک ہی کے ہیں۔اَحْسَنَہٗ کے معنے عَلِمَہٗ کے بھی ہیں یعنی اُسے اچھی طرح سے جان لیا۔کہتے ہیں فُـلَانٌ یُحْسِنُ الْقِرَاءَ ۃَ فلاں شخص قراء ت کا خوب علم رکھتا ہے اور اَحْسَنَ لَہٗ وَبِہٖ کے معنے ہیں اچھا عمل کیا یا کسی کے ساتھ نیکی کی۔(اقرب) اسلامی نقطۂ نگاہ سے اَسْلَمَ وَجْھَہٗ اور وَھُوَ مُحْسِنٌ کے یہ معنے ہیں کہ ایسا شخص رسول کی اتباع کرتا ہو۔اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سپرد کر دے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل فرمانبرداری کرے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم نے فرمایا مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسَ عَلَیْہِ اَمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ(بخاری کتاب البیوع باب النجش۔۔۔۔)کہ جو کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کے متعلق ہمارا حکم نہیںیا جس میں ہماری اجازت نہیں وہ مقبول نہیں ہو گا کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم جو کلامِ الہٰی کے لانے والے ہیں وہی خدا تعالیٰ کے منشا کو بہتر سمجھ سکتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایک دفعہ پوچھا گیا