تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 397
کا یہ سلوک نہیں تو اُن کو سمجھ لینا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اُن سے اپنی برکات چھین لی ہیں اور انہیں مر کر بھی نجات حاصل نہیں ہوگی۔بَلٰى ١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ (اور بتاؤ کہ دوسرے لوگ) کیوں نہیں (داخل ہوں گے)جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دے اور وہ نیک عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؒ۰۰۱۱۳ کام کرنے والا (بھی)ہو تواس کے رب کے ہاں اس کے لئے بدلہ (مقرر )ہے اور ان کو( یعنی ایسے لوگوں کو آئندہ کے متعلق )کسی قسم کا خوف نہ ہوگا اور نہ وہ (کسی سابق نقصان پر )غمگین ہوں گے۔حَلّ لُغَات۔اَسْلَمَ کے معنے ہیں اپنے آپ کو کسی کے سُپرد کر دینا یا کلّی طور پر سونپ دینا۔(اقرب) وَجْہٌ کے کئی معنے ہیں(۱) توجہ (۲) نَفْسُ الشَّیْءِ کسی چیز کا وجود(۳) چہرہ۔یہ سب معنے یہاں چسپاں ہو سکتے ہیں۔اور اِس آیت کے معنے یہ ہیں کہ (۱)جو اپنی توجہ پورے طور پر خدا کو سونپ دے یعنی تمام تر توجہ خدا کی طرف لگا دے۔(۲) جو اپنی ذات کو کامل طور پر خدا تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اسے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دے(۳)جو اپنا چہرہ خدا تعالیٰ کے سپرد کر دے۔ہروقت اس کی طرف نظر رکھے اور اُس کی نگاہ کبھی غیر اللہ کی طرف نہ اُٹھے۔(اقرب) مُحْسِنٌ۔احسان کے دو معنے ہیں(۱) دوسرے کو انعام دینا بغیر اُس کے کسی کام کے اُس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک کرنا یا اس کے کام کے بدلہ سے اُسے زیادہ دینا (۲) انسان کا اپنے ذاتی کام میں کمال کا اعلیٰ درجہ حاصل کرنا۔یعنی اُسے اپنے کام کے متعلق اچھا علم حاصل ہو۔یا جو عمل کرے وہ اچھا ہو۔غرض احسان یہ ہے کہ (۱)غیر کے ساتھ بغیر بدلہ کے نیک سلوک کرے(۲) اپنے علم اور عمل میں نیکی مد نظر رکھے اور اُس میں بدی کو داخل نہ ہونے دے۔(مفردات)حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔اَلنَّاسُ اَبْنَا ءُ مَا یُحْسِنُوْنَ کہ لوگ اس چیز کے بیٹے ہوتے ہیں جسے وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔یعنی انسان کی عزت اس علم کے مطابق ہوتی ہے جسے وہ اچھی طرح سیکھتا ہے اور اس عمل کے مطابق ہوتی ہے جسے وہ بہترسے بہتر کر سکتا ہے۔جیسے ایک شخص نجّار کہلاتاہے وہ کئی اور کام بھی