تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 36
اور ان کی گاڑیوں اور ان کے سواروں پر پھر آوے۔اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ دریا پر بڑھایا۔اور دریا صبح ہوتے اپنی قوت اصلی پر لَوٹا۔اور مصری اس کے آگے بھاگے۔اور خداوند نے مصریوںکو دریا میں ہلاک کیا۔اور پانی پھرا۔اور گاڑیوں اور سواروں اور فرعون کے سب لشکر کو جو ان کے پیچھے دریا کے بیچ آئے تھے چھپالیا۔اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔پر بنی اسرائیل خشک زمین پر دریا کے بیچ میں چلے گئے۔اور پانی کی ان کے داہنے اور بائیں دیوار تھی۔سو خداوند نے اُس دن اسرئیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے یوں بچایا۔اور اسرائیلیوں نے مصریوں کی لاشیں دریا کے کنارے پر دیکھیں۔اور اسرائیلیوں نے بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دیکھی۔اور لوگ خداوند سے ڈرے۔تب خداوند پر اور اس کے بندے موسیٰ پر ایمان لائے۔‘‘ قرآن کریم کے دیگر مقامات میں واقعہ ھٰذا کا ذکر قرآن کریم میں یہ واقعہ علاوہ اِس آیت کے سورۃ شعراء ع۴ اور سورۂ طٰہٰ ع۴ میں بھی بیان ہوا ہے۔چنانچہ سورۂ شعراء میں آتا ہے۔فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ(الشعراء:۶۴) یعنی ہم نے موسیٰ سے وحی کی کہ تو سمندر پر سونٹا مار۔جب اس نے سونٹا مارا تو سمندر پھٹ گیا۔اور ہر ٹکڑا ایک اونچے ٹیلے کی طرح نظر آتا تھا۔پھر سورۃ طٰہٰ میں آتا ہے۔وَ لَقَدْ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِيْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى۔فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ۔وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى۔(طٰہٰ :۷۸ تا۸۰) یعنی ہم نے موسیٰ سے وحی کی کہ ہمارے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو راتوں رات مصر سے نکال لے جاؤ۔اور سمندر میں سونٹا مار کر ان کے لئے خشک رستہ بنا دو۔تم اس طرح اس کو پار کر لو گے اور تعاقب سے اور ڈوبنے سے نہ ڈرو گے۔پھر فرعون نے اپنے لشکروں سمیت بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔لیکن سمندر کا ریلا کچھ ایسا آیا کہ وہ غرق ہو گئے اور فرعون نے یوں اپنی قوم کو تباہی میں ڈالا اور بچ نہ سکا۔قرآن کریم کی آیات کے پیش نظر واقعہ کی کیفیت اِن آیات کو ملا کر قرآن کریم کے بیان کے مطابق واقعہ کی کیفیت یہ معلوم ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل ارض مقدس کے ارادہ سے چلے جا رہے تھے کہ پیچھے سے فرعون کا لشکر آ پہنچا۔اسے دیکھ کر بنی اسرائیل گھبرائے اور سمجھے کہ اب ہم پکڑے جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کی معرفت ان کو تسلیّ دلائی اور حضر ت موسیٰ ؑ سے کہا کہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سمندر میں ایک راستہ ہو گیا اور وہ اس میں سے آگے روانہ ہوئے۔ان کے دونوں طرف پانی تھا جو ریت کے ٹیلوں کی مانند یعنی