تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 35
اکثر مفسرین نے آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ بنی اسرائیل دریا پھاڑنے کا ذریعہ تھے۔ان کو دریا میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تو جوں جوں وہ آگے بڑھتے تھے دریا کا پانی سمٹتا جاتا تھا لیکن یہ معنے خود قرآن کریم کے الفاظ سے غلط ثابت ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ( الشعراء :۶۴)یعنی ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ تو سمندر پر سونٹا مار۔جب اس نے سونٹا مارا تو سمندر پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا ایک اونچے ٹیلے کی طرح نظر آتا تھا۔اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ سمندر کے پھٹنے کا ذریعہ ظاہر میں سونٹا تھا نہ کہ بنی اسرائیل۔پس یہ معنے کہ بنی اسرائیل کے ذریعہ سے سمندر کو پھاڑا باطل ہوئے۔اب یہ سوال ہے کہ اس کے معنے کیا ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بَاء عربی زبان میں تعلیل اور سَبَبِیَّتْ کے لئے بھی آتی ہے۔اور آیت کے معنے یہ ہیں۔کہ ہم نے تمہارے سبب سے سمندر کو پھاڑا۔یعنی تمہیں نجات دینے کے لئے ہم نے ایسا کیا۔دوسرے الفاظ میں فَرَقْنَالَکُمُ الْبَحْرَ کے معنوں میں فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ آیا ہے۔( دیکھو بحر محیط، کشّاف، شرح مِائَۃُ عَامِل زیر آیت ھٰذا) فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَمیں بنی اسرائیل کے سمندر سے ہو کر بچ نکلنے کے معجزہ کی طرف اشارہ وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ اِس آیت میں اِس معجزہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ ؑکے لئے اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت دکھایا جبکہ حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر شام کی طرف لے جا رہے تھے۔اور ان کو واپس لے جانے کے لئے فرعون اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کر رہا تھا۔خروج باب ۱۴ آیت ۲۱ تا ۳۱ میں لکھا ہے:۔’’ پھر موسیٰ نے دریا پر ہاتھ بڑھایا۔اور خداوند نے بہ سبب بڑی پوربی آندھی کے تمام رات میں دریا کو چلایا اور دریا کو سُکھا دیا اور پانی کو دو حصے کیا۔اور بنی اسرائیل دریا کے بیچ میں سے سوکھی زمین پر ہو کے گزر گئے۔اور پانی کی ان کے دہنے اور بائیں دیوار تھی۔اور مصریوں نے پیچھا کیا۔اور ان کا پیچھے کئے ہوئے وَے اور فرعون کے سب گھوڑے اور اس کی گاڑیاں اور اس کے سوار دریا کے بِیچوں بیچ تک آئے۔اور یوں ہوا کہ خداوند نے پچھلے پہر اس آگ اور بدلی کے ستون میں سے مصریوں کے لشکر پر نظر کی۔اور مصریوں کی فوج کو گھبرا دیا۔اور ان کی گاڑیوں کے پہیوں کو نکال ڈالا۔ایسا کہ مشکل سے چلتی تھیں۔چنانچہ مصریوں نے کہا۔کہ آؤ اِسرائیلیوں کے مُنہ پر سے بھاگ جاویں۔کیونکہ خداوند اِن کے لئے مصریوں سے جنگ کرتا ہے۔اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ دریا پر بڑھا۔تاکہ پانی مصریوں