تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 37
اونچا نظر آتا تھا۔لشکرِ فرعون نے ان کا پیچھا کیا۔مگر بنی اسرائیل کے صحیح سلامت پار ہونے پر پانی پھر لوٹا اور مصری غرق ہو گئے۔اِس واقعہ کے سمجھنے کے لئے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق تمام معجزات اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور کسی انسان کا ان میں دخل اور تصرف نہیں ہوتا۔پس حضرت موسیٰ ؑ کا عصا اٹھانا اور سمندر پر مارنا صرف ایک نشانی کے لئے تھا۔نہ اس لئے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا یا عصا کا سمندر کے سمٹ جانے میں کوئی دخل تھا۔اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم کے الفاظ سے ہرگز ثابت نہیں کہ سمندر کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور اس میں سے حضرت موسیٰ ؑ نکل گئے تھے بلکہ قرآن کریم میں اِس واقعہ کے متعلق دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ایک فَرَقَ اور ایک اِنْفَلَقَ کا۔جن کے معنے جدا ہو جانے کے ہیں۔پس قرآن کریم کے الفاظ کے مطابق اِس واقعہ کی یہی تفصیل ثابت ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل کے گزرنے کے وقت سمندر جدا ہو گیا تھا۔یعنی کنارہ سے ہٹ گیا تھا اور جو خشکی نکل آئی تھی اس میں سے بنی اسرائیل گزر گئے تھے۔اور سمندر کے کناروں پر ایسا ہو جایا کرتا ہے۔بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آمدہ واقعہ کی مثال نپولین کی لائف میں چنانچہ نپولین کی لائف میں لکھا ہے کہ جب وہ مصر پر حملہ آور ہوا تو وہ بھی اپنی فوج کے ایک حصہ سمیت بحیرہ احمر کے کنارہ کے پاس جزر کے وقت گزرا تھا۔اور اس کے گزرتے گزرتے مدّ کا وقت آگیا اور وہ مشکل سے بچا۔اس واقعہ میں معجزہ یہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسے وقت میں سمندر کے سامنے پہنچایا جبکہ جزر کا وقت تھا۔اور حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھ اٹھاتے ہی اﷲ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت پانی گھٹنا شروع ہو گیا۔لیکن فرعون کا لشکر جب سمندر میں داخل ہوا تو ایسی غیر معمولی روکیں اس کے راستہ میں پیدا ہو گئیں کہ اس کی فوج بہت سُست رفتار سے بنی اسرائیل کے پیچھے چلی۔اور ابھی سمندر ہی میں تھی کہ مدّ آگئی اور دشمن غرق ہو گیا۔سمندر دو ٹکڑوںمیں پھٹا نہ تھا بلکہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا چنانچہ اس خیال کی تائید قرآن کریم کے الفاظ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ( سورہ شعراء آیت ۶۴) بھی کرتے ہیں۔جن کے یہ معنی ہیں کہ جب سمندر ہٹا تو ہر ایک ٹکڑا ایک اونچے ریت کے ٹیلہ کی طرح ہو گیا۔اب ظاہر ہے کہ اگر قرآن کریم کا یہ منشاء ہوتا کہ سمندر دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تو کُلکا لفظ جو نکرہ مفرد پر آیا ہے کبھی استعمال نہ ہوتا۔پس کُل کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ اس موقع پر سمندر پھٹا نہ تھا بلکہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا۔اور جیسا کہ اُن سمندر وںمیں ہوتا ہے جن کے کناروں پر چھوٹے گڑھے پانیوں کے ہوتے ہیں۔سمندر کے ہٹنے پر وہ پانی کے مواقع پانی سے بھرے رہتے ہیں۔ایسا ہی اُس وقت ہوا۔بنی اسرائیل