تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 359
بات ہی پیدا نہ ہو اور دوسری دفعہ تمہیں سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔غرض وَاسْمَعُوْا کے دونوں مفہوم ہیں یہ بھی کہ تم ہماری بات مان لو اور یہ بھی کہ تم توجہ سے اس کی باتیں سنو تاکہ یہ صورت ہی پیدا نہ ہو۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو یاد رکھو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بڑی بن جائیں گی اور تمہارے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت نہیں رہے گی۔کیونکہ ظاہر کا باطن پر گہر ا اثر پڑتا ہے۔مگر ظاہر ی آداب سے وہ باتیں مراد نہیں جو انسان کو دوسرے کا غلام بنا دیں مثلاً دوسرے کے پاؤں یا گھٹنے کو ہاتھ لگانا۔یہ ایک مومن کی انتہائی ذلّت ہے جو کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔دوسرے کا ادب بغیر اپنے نفس کو ذلیل کرنے کے بھی ہو سکتا ہے پس جس بات میں ذلّتِ نفس پائی جائے اُسے کبھی اختیار نہیں کرنا چاہیے اور نہ اسلام ایسی تعلیم دیتا ہے۔وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ میں کفّار سے مراد وہی مفسد اور فتنہ پرداز یہود ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت اور مسلمانوں میں منافقت کا بیج بونے اور اُن کے دلوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب اور احترام کم کرنے کے لئے اس قسم کی شرارتیں کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی حرکات سے باز نہ آئے تو ایک دن انہیں ان کی شرارتوں کا دردناک انجام دیکھنا پڑےگا۔مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِيْنَ اہل کتاب میں سے اور نیز مشرکوں میں سے جن لوگوں نے (ہمارے رسولوں کا ) انکار کیا ہے وہ پسند نہیں کرتے کہ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَخْتَصُّ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کسی قسم کی خیر (اور برکت) اتاری جائے اور (بھول جاتے ہیںکہ) اللہ تعالیٰ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ۰۰۱۰۶ جسےچاہتاہے اپنی رحمت کے لئے خاص کر لیتا ہے۔اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔تفسیر۔فرمایا نہ اہل کتاب اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ تم پر خدا کا فضل نازل ہو اور نہ ہی مشرک۔وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن کی وجہ سے تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ظاہری ادب ترک کر دو۔اور تمہارے دلوں میں ان کی وقعت کم ہو جائے اور اس طرح تم میں تفرقہ اور شقاق اور فساد پیدا ہو جائے اور تمہارا اتحاد جس کی