تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 360
وجہ سے تمہیں طاقت حاصل ہے جاتا رہے۔اس لئے تمہیں ہوشیار رہنا چاہیے۔دشمن کی غرض تو ہنسانا اور تضحیک کا پہلو پید ا کرنا ہوتا ہے۔مگر وہ جانتا نہیں کہ اس سے خود اُس کی کمینگی ظاہر ہوتی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا بگڑتا ہے۔وَ اللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ۔فرماتا ہے۔اِن باتوں سے کیا بنتا ہے۔خدا تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے مختص کر لیتا ہے۔اِس وقت اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی رحمت کو مخصوص کر دیا ہے۔پس تم چاہے کتنی گالیاں دے لو۔خدا کا نبی جیتتا چلا جائے گا۔کیونکہ اس کیلئے خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی ہوئی ہے۔وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ میں اس طرف توجہ دلائی کہ اُس کی رحمت عام ہے۔اس لئے اگر تم ایمان لے آؤتو ہماری رحمت ختم نہیں ہو گئی۔اگر تم توبہ کر لو تو تمہیں بھی ہماری رحمت سے حصہ مل جائے گا۔مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ جس کسی پیغام کو بھی ہم منسوخ کر دیں یا بھلوادیں تو اس سے بہتر یا اس جیسا (پیغام ) ہم (دوبارہ دنیا میں)لے آتے مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۱۰۷ ہیں۔کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہر ایک امر پر(جس کا وہ ارادہ کرے) پورا قادر ہے۔حَلّ لُغَات۔نَسَخَ الشَّیْ ءَ کے معنے ہیں اَزَالَہٗ وَ اَبْطَلَہٗ وَ مَسَخَہٗ۔اُس نے کسی چیز کو مٹا دیا۔باطل کر دیا اور مسخ کر دیا۔(اقرب) نُنْسِھَا۔اَنْسَی الرَّجُلُ الشَّیْ ءَ کے معنے ہیں حَمَلَہٗ عَلیٰ نِسْیَانِہٖ۔اُسے بھول جانے پر آمادہ کر دیا۔(اقرب) پس نُنْسِھَا کے معنے ہیں ہم بھلوادیں اور ذہنوں سے محو کر دیں۔اَلْاٰیَۃُ کے معنے ہیں اَلرِّسَالَۃُ۔رسالت۔تفسیر۔یہ آیت ایسی اہم ہے کہ میں سمجھتا ہوں اِس آیت کے متعلق جو غلط فہمی لوگوں میں پائی جاتی تھی اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام صرف اسی کو دُور کرتے تو میرے نزدیک یہی ایک بات آپ کی نبوت اور ماموریت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہوتی۔اس کے متعلق مسلمانوں میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں اُن کی