تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 358
تعریف میں دوسروں سے بڑھ کر بات کہیں۔ایک دن دربار میں بادشاہ کی تعریف ہونے لگی۔تو کسی نے کہہ دیا کہ ہمارے بادشاہ بڑے نجیب ہیں۔انشاء اللہ خان نے فوراً کہا۔نجیب کیا حضور تو اَنْـجَبہیں۔اَب اَنْـجَب کے ایک معنے تو زیادہ شریف کے ہیں۔مگر ساتھ ہی اِس کے ایک معنے لونڈی زادہ کے بھی ہیں۔اتفاق یہ ہوا کہ بادشاہ تھا بھی لونڈی زادہ۔تمام دربار میں سناٹا چھا گیا۔اور سب کی توجہ لونڈی زادہ والے مفہوم کی طرف پھر گئی۔بادشاہ کے دل میں بھی یہ بات بیٹھ گئی۔اور انشا ء اللہ خان کو اُس نے قید کر دیا اورآخر اسی قید میں انہیں جنون ہو گیا اور وہ مر گئے (تاریخ ادب اردو باب ۷ صفحہ ۲۴۷)۔غرض اللہ تعالیٰ مومنوںکو ہدایت دیتا ہے کہ دیکھو تم رَاعِنَا مت کہا کرو۔بلکہ اُنْظُرنَا کہا کرو۔اور ایسے طریق جن سے خدا کے رسول کی بے ادبی ہوتی ہو بچو۔لَیًّاکے معنے بھی اِخْفَاءً وَ کِتْمَا نًا کے ہیں۔جس میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ رَاعِنَا کا لفظ تو اُن کی زبانوں پر ہوتا تھا مگر اس چیز کو چھپاتے ہوئے جواُن کے مدّ نظر ہوتی تھی وہ اس لفظ کا استعمال کیا کرتے تھے۔یعنی ان کی زبانوں پر تو یہی لفظ ہوتا مگر دل میں کچھ اور مطلب ہوتا۔اصل میں تو یہ مراد ہوتی کہ تو بڑا احمق اور خود سر انسان ہے مگر جب پوچھا جاتا تو صاف کہہ دیتے کہ ہم تو ان کی نظر عنایت کے طلبگار ہیں۔اور رَاعِنَا عرض کر رہے ہیں حالانکہ یہ بات نہیں ہوتی تھی۔اور پھر وہ الگ ہو کر کہا کر تے کہ دیکھا ہم نے نعوذ باللہ اسے اُس کے متبعین میں کیسا ذلیل کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مومنوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے یہود دلیر ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ماننے والے بھی اُنہیں کچھ وقعت نہیں دیتے۔بے شک اُنْظُرنَاکے بھی یہی معنے ہیں کہ ہماری طرف توجہ کیجئے مگر اس میں برابری کا وہ مفہوم نہیں پایا جاتا جو رَاعِنَا میں پایا جاتا ہے۔اگر اس کے مفہو م میں بھی یہ بات ہوتی کہ تو توجہ کر تو پھر ہم بھی توجہ کریں گے تو بے شک بے ادبی ہوتی مگراس کایہ مفہوم نہیں ہے۔اُ نْظُرنَا کے یہ بھی معنی ہیں کہ ہمارا انتظار کیجئے یا ہمیں مہلت دیجیئے یا ہمیں موقع دیجیئے کہ ہم اپنی معروضات کو پوری طرح پیش کر سکیں۔پس یہ ادب کے الفاظ ہیں اور ایسے ہی الفاظ میں اپنی عقیدت کا اظہار کرنا ایک مومن کیلئے ضروری ہوتا ہے۔وَاسْمَعُوْ ا میں بتایا کہ ہم نے تمہیں جو یہ حکم دیا ہے۔تمہارا فرض ہے کہ تم اسے قبول کرو اور توجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی باتیں سُنا کرو تاکہ تمہیں دوسری دفعہ آپؐ سے سوال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آوے اور یہ الفاظ تمہیں استعمال ہی نہ کرنے پڑیں۔اگر پہلے توجہ نہ کروگے۔اور آپؐ کی باتوں کو پورے غور کے ساتھ نہ سنو گے تو تمہیں یہ کہنا پڑیگا کہ ہمیں پھر سمجھائیے اس لئےخدا کے رسول کی باتوں کی طرف تم ایسی توجہ رکھو کہ یہ