تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 354

غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ طریق تھا کہ اگر آپ کو کسی بات کا علم نہ ہوتا تو آپ صاف طور پر فرما دیتے کہ مجھے اس کا علم نہیں۔لیکن یہود کا مقصد چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ادب اور احترام مسلمانوں کے دلوں سے کم کرنا تھا اِس لئے وہ مجالس میں آ آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسے سوال کر دیتے جس سے اُن کی یہ غرض ہوتی تھی کہ اگر آپ کو ان کا جواب نہ آئے گا تو آپ شرمندہ ہوںگے۔اور مسلمانوں میں بد دلی پیدا ہوگی۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے الہام کے ذریعہ آپ کو اُن کی شرارتوں سے محفوظ کر دیتا۔انہیں شرارتوں میں سے اُن کی ایک شرارت یہ بھی تھی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتے تھے جن سے اندرونی طور پر ہتک ہوتی تھی۔لیکن اگر کوئی روکتا تو وہ کہہ دیتے کہ تم ہماری بات سمجھے نہیں۔ہماری تو اس سے یہ غرض نہیں تھی۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ یہود بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہنے کی بجائے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہہ دیا کرتے تھے۔سُننے والا تو سمجھتا کہ انہوں نے سلام کیا ہے مگر اُن کے مد نظر سَام ہوتا جس کے معنے تباہی اور ہلاکت کے ہیں۔ایک دفعہ بعض یہودیوں نے ایسا ہی کیا۔تو حضرت عائشہؓ بھانپ گئیں اور انہوں نے فوراً کہا عَلَیْکُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَۃُ یعنی تم پر ہی ہلاکت اور تباہی نازل ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔عائشہ سختی نہ کرو۔اللہ تعالیٰ رفق اور نرمی سے کام لینا زیادہ پسند کرتاہے۔انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ! آپ نے سُنا نہیں کہ یہود نے کیا کہا ہے۔آپؐ نے فرمایا۔کیا تم نے نہیں سُنا کہ میں کیا جواب دیا کرتا ہوں۔میں اُن کے اس فقرہ کے جواب میں صرف عَلَیْکُمْ کہہ دیا کرتا ہوں۔(بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء علی المشرکین) اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کی یہ عادت تھی کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتے جو گستاخانہ بھی ہوتے اور عامیانہ بھی اور اس سے اُن کا مقصد محض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تذلیل اور آپ کا استخفاف ہوتا۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں اُن کے اس اندرونی بغض کی ایک مثال دیتا ہے فرماتا ہے اے مومنو! تم رَاعِنَامت کہو بلکہ اُنْظُرْنَا کہا کرو۔حالانکہ رَاعِنَا کے بھی وہی معنے ہیں جو اُنْظُرْنَا کے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ رَاعِنَا نہ کہو بلکہ اُنْظُرْنَا کہو۔اس کی وجہ جیسا کہ خود قرآن کریم نے ایک دوسرے مقام پر صراحت کی ہے یہ ہے کہ یہود کا یہ طریق تھا کہ جب وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپؐ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے رَاعِنَا کا لفظ استعمال کرتے۔گو رَاعِنَا کے لُغَتًا یہ معنے ہیں کہ آپ ہماری رعایت رکھیں اور ہم سے مہربانی کا سلوک کریں مگر قرآن کریم بتاتا ہے کہ وہ سیدھی طرح یہ لفظ استعمال