تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 355

نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی زبان کو پیچ دے کر اور اس لفظ کو ایسے رنگ میں بگاڑ کر استعمال کرتے تھے کہ بادی النظر میں تو رَاعِنَا ہی سمجھا جاتا مگر درحقیقت وہ ایک طنزیہ کلام یا گالی بن جاتا۔اللہ تعالیٰ اُن کی اس شرارت کا ذکر کرتے ہوئے سورۃ نساء میں فرماتا ہے۔مِنَ الَّذِيْنَ هَادُوْا يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَيْنَا وَ اسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَيًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ۠ وَ طَعْنًا فِي الدِّيْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ(النّسآء :۴۷) یعنی یہودیوں میں سے بعض لوگ خدا تعالیٰ کے الہامات کو اُن کے اصل مقام سے اِدھر اُدھر بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سُنا اور نافرمانی کی۔اور کہتے ہیں۔ہماری باتیں سن تجھے خدا کا کلام کبھی نہ سنایا جائے۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رَاعِنَا۔یعنی ہمارا لحاظ کر۔مگر یہ بات اپنی زبانوں کو پیچ دیتے ہوئے اور دین میں طعن کرتے ہوئے کہتے ہیں۔اگر وہ اس شرارت اور فتنہ انگیزی کی بجائے یہ کہتے کہ ہم نے سُنا اور ہم نے اطاعت کی اور کہتے کہ ہماری معروضات سُن اور ہمارا بھی لحاظ رکھ تو یہ امر اُن کے لئے بہت بہتر اور بہت زیادہ درستی ءاخلاق کا موجب ہوتا۔مفسرین لکھتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائی زمانہ میں بکریاں بھی چرائی تھیں اس لئے فتنہ پرداز یہودی ذرا لہجہ بدل کر رَاعِنَا کی بجائے رَاعِیْنَا کہہ دیا کرتے تھے۔جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ُ تو تو ہمارا چرواہا ہے اَب تُو نبی کِس طرح بن گیا(البحر المحیط زیر آیت ھٰذا)۔مگرعلامہ اصفہانی صاحب مفردات لکھتے ہیں کہ کَانَ ذَالِکَ قَوْلًا یَقُوْلُوْنَہٗ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی سَبِیْلِ التَّھَکُّمِ یَقْصِدُوْنَ بِہٖ رَمْیَہٗ بِالرُّعُوْنَۃِ وَ یُوْھِمُوْنَ اَنَّـھُمْ یَقُوْلُوْنَ رَاعِنَا اَیْ اِحْفَظْنَا، مِنْ قَوْلِھِمْ۔رَعُنَ الرَّجُلُ یَرْ عَنُ رَعَنًا فَھُوَ رَعِنٌ وَاَرْعَنُ۔(مفردات زیر لفظ رعن )یعنی یہودی رَاعِنَا کا لفظ محض ہنسی اور مذاق کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اُن کا اصل مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حماقت سے متّہم کرنا ہوتا تھا لیکن وہ سُننے والوں کو اس وہم میں بھی مبتلا رکھنا چاہتے تھے کہ وہ رَاعِنَا کا لفظ اِحْفَظْنَا کے معنوں میںا ستعمال کر رہے ہیںحالانکہ وہ رَاعِنَا نہیں بلکہ رَعِنَا کہہ رہے ہوتے تھے۔چنانچہ اہل عرب بیو قوف اور احمق انسان کو رَعِنٌ اور اَرْعَنُ کہا کرتے ہیں۔اِس نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ لفظ رَعِنٌ سے بھی بن سکتا ہے جس کے معنے احمق خود پسند اور متکبر انسان کے ہیں۔منادیٰ ہو کر یہ لفظ رَعِنَا ہوا اور چونکہ وہ لَیًّا بِاَ لْسِنَتِھِمْ کے ماتحت اپنی زبان کو پیچ دے کر یہ لفظ استعمال کرتے تھے تا اُن کی منافقت پر بھی پردہ پڑا رہے اس لئے وہ رَعِنَا کو ایسے رنگ میں ادا کرتے کہ وہ رَاعِنَا بھی سمجھا جاتا۔اور چونکہ آخری الف خطاب کے لئے ہے اِس لئے رَعِنَا کے معنے یہ ہوتے کہ اے بیوقوف یا اے دھوکہ خوردہ انسان۔