تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 353

اُنْظُرْنَا۔کے معنے ہیں ہماری طرف توجہ کیجئیے۔ہمارا انتظار کیجئیے۔ہمیں ساتھ شامل کرنے کے لئے ذرا ٹھہر جایئے۔(لسان) گویا اُنْظُرْنَا کے بھی وہی معنے ہیں جو رَاعِنَا کے ہیں۔مگراس میں وہ شرط نہیں پائی جاتی جو رَاعِنَا میں پائی جاتی ہے۔تفسیر۔لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا۔یہود مسلمانوں کے خلاف دو قسم کی شرارتیں کیا کرتے تھے۔اوّل بیرونی اور دوم اندرونی۔یہاں اُن کی اُن شرارتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ اندرونی طور پر مسلمانوں کو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے برگشتہ کرنے اور اُن کے دلوں میں آپ کا ادب اور احترام کم کرنے کے لئے کیا کرتے تھے۔وہ جس طرح اسلام کو تباہ کرنے کے لئے بیرونی لوگوں کو بلکہ حکومتوں تک کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکسایا کرتے تھے اسی طرح وہ مسلمانوں کو بھی اسلام سے بدظن کرنے کے لئے کئی قسم کے حیلے اور تدابیر اختیار کرتے۔جہاں کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی فوراً اس سے ہمدردی کا اظہار شروع کر دیتے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں آ آکر ایسے الفاظ استعمال کرتے جن کے دو معنے ہوتے تھے ایک اچھے اور ایک بُرےتاکہ مسلمان بھی ان الفاظ کو استعمال کرنے لگیں۔اور اس طرح ان کے دلوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آپ کا احترام جاتا رہے۔اور اُن میں گستاخی اور بے ادبی کی رُوح پیدا ہوجائے۔مثلاً تضحیک کرنے کے لئے وہ آپ سے بعض دفعہ کوئی بے معنٰی ساسوال کر دیتے۔اور اِس سے اُن کی غرض یہ ہوتی کہ مسلمانوں کے دلوںسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رُعب جاتا رہے اور ان کا اخلاص کم ہو جائے یا شرمندہ کرنے کے لئے عبرانی کے متعلق کوئی سوال کر دیتے یا کوئی حوالہ پوچھ لیتے۔حالانکہ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جس سے فی الحقیقت کسی کی عزت کم ہو جائے۔اگر آپ کو پتہ نہ ہوتا تو آپ اعتراف فرما لیتے کہ مجھے اِس کا علم نہیں۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپؐ نے اپنے چند صحابہؓ کو دیکھا کہ وہ کھجور کے نرومادہ کا آپس میں پیوند کر رہے ہیں۔آپؐ نے فرمایا۔ایسا کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ! ہم ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا۔اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہو۔انہوں نے یہ سمجھ کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا چھوڑ دیا۔لیکن جب درختوں کو پھل نہ آیا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا۔کہ آپ کی ہدایت پر ہم نے کھجور کے نرومادہ کو آپس میں ملانا چھوڑ دیا تھا مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھل نہیں آیا۔آپؐ نے فرمایا۔اس قسم کے معاملات کے متعلق تم مجھ سے زیادہ واقف ہو۔جب میں تمہیں کوئی دینی حکم دوں تو اُس کی اطاعت تم پر فرض ہے۔لیکن اگر کسی دنیوی معاملہ کے متعلق رائے دوں۔تو میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں ہو سکتا ہے کہ وہ غلط ہو۔(مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا دون ماذکرہ صلی اللہ علیہ وسلم من معایش الدنیاعلی سبیل الرأی)